مذہب کوتشدد اورنفرت پھیلانے کیلئے استعمال کرنیوالے مذہب کا حقیقی چہرہ مسخ کرتے ہیں، ڈاکٹر قبلہ ایاز

دہشت گردی اورانتہاپسندی کیخلاف بیانیہ کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، دہشت گردی اورعسکریت پسندی کیخلاف متفقہ فتویٰ کو قانون کی شکل دینی چاہئے ،اعلی تعلیمی کمیشن کواسے نصاب کاحصہ بنانا چاہئے، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کا نیکٹا کے زیر اہتمام مذاکراے سے خطاب

منگل اپریل 21:40

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 اپریل2018ء) چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کے ڈاکٹرقبلہ آیازنے کہاہے کہ مذہب کوتشدد اورنفرت پھیلانے کیلئے استعمال کرنیوالے مذہب کا حقیقی چہرہ مسخ کرتے ہیں، دہشت گردی اورانتہاپسندی کیخلاف بیانیہ کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، دہشت گردی اورعسکریت پسندی کیخلاف متفقہ فتویٰ کو قانون کی شکل دینی چاہئے ،اعلی تعلیمی کمیشن کواسے نصاب کاحصہ بنانا چاہئے۔

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے یہ بات منگل کو نیکٹا کے زیراہتمام ’اسلام آباد انٹرنیشنل کاونٹرٹیررازم فورم‘ کے پہلے روز منعقدہ پینل مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ڈاکٹرقبلہ آیازنے کہاکہ پرامن معاشرے کا قیام اسلام کے بنیادی تعلیمات میں شامل ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ اسلام سمیت تمام الہامی مذاہب نے پرامن معاشروں کے قیام کاپرچارکیاہے، مذہب کوتشدد اورنفرت پھیلانے کیلئے استعمال کرنے والے حقیقت میں اس کا حقیقی چہرہ مسخ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذاہب اختلاف نہیں بلکہ اتحاد اورامن کی تعلیم دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ 16جنوری کوپاکستان کے تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اورمشائخ عظام نے دہشت گردی اورعسکریت پسندی کے خلاف متفقہ فتویٰ جاری کیا، اسلامی نظریاتی کونسل نے اس فتویٰ کی توثیق کی اورحکومت سے اسے پارلیمان میں بھیجنے کیلئے کہاتاکہ اسے قانون کاحصہ بنایا جائے ، اسی طرح ہائیرایجوکیشن کمیشن سے کہا گیاہے کہ اس فتویٰ کو نصاب کاحصہ بنانے کیلئے اقدامات کئے جائے تاکہ عوام الناس میں اس حوالے سے شعوروآگہی کو فروغ دیاجاسکے۔

انہوں نے کہاکہ تاریخ میں مذہب کی بنیادپرجنگیں ہوئی ہیں لیکن اصل چیز مذہب کی بنیادی اقداراورتعلیمات کو سمجھنے کی ہے،انہوں نے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی اورانتہاپسندی کے خلاف بیانیہ کو آگے بڑھایا جائے ، اگر ہم نے مناسب طریقے سے اقدامات کئے تو بطورقوم ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔پینل ڈسکشن میں بین الاقوامی تنظیم البانے ایسوسی ایٹس کے مندوب سائمن ہیزلاک نے دہشت گردی اورعسکریت پسندی کے خلاف سول سوسائٹی کی تنظیموں کے کردار پرروشنی ڈالی اورشرکاء سے دارفور، صومالیہ اوردنیاء کے دیگرخطوں میں اپنے تجربات میںشریک کیا۔

انہوں نے کہاکہ مقامی ثقافت اوراقدارکے احیاء نوسے دہشت گردی اورعسکریت پسندی کے بیانئے کو شکست دینے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ثقافت کو اس جنگ میں بطورہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments