اس وقت ملکی حالات انتہائی گھمبیر ،حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، پلوشہ خان

آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے ہمارے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں حکومت ہزارہ اور بلوچستان کے واقعات سے چشم پوشی کر رہی ہے،وزیر اعظم اس وقت تک بلوچستان نہیں جا سکے ! وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ پر بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام ہے ا ور اس کے کالعدم تنظیموں سے روابط ہیں،اس وقت اپوزیشن پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے د*اپوزیشن احتجاج پر متفق ہے ،نواز شریف،آصف زرادی اور مولانا فضل الرحمٰن آگے آئیں اور ملک کو ان حالات سے نکالیں،موجودہ حالات میں وزیر اعظم کو کابینہ کیساتھ ہی مستعفی ہونا چاہیئے، پریس کانفرنس سے خطاب

جمعہ اپریل 23:14

اسلام آبادد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 اپریل2019ء) پاکستان پیپلز پارٹی کی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پلوشہ خان نے کہا ہے کہ اس وقت ملکی حالات انتہائی گھمبیر ہیں،حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے،آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے ہمارے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، حکومت ہزارہ اور بلوچستان کے واقعات سے چشم پوشی کر رہی ہے،وزیر اعظم اس وقت تک بلوچستان نہیں جا سکے، وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ پر بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام ہیاور اس کے کالعدم تنظیموں سے روابط ہیں،اس وقت اپوزیشن پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،اپوزیشن احتجاج پر متفق ہے ،نواز شریف،آصف زرادی اور مولانا فضل الرحمٰن آگے آئیں اور ملک کو ان حالات سے نکالیں،موجودہ حالات میں وزیر اعظم کو کابینہ کیساتھ ہی مستعفی ہونا چاہیئے۔

(جاری ہے)

نذیر ڈھوکی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پلوشہ خان نے کہا کہ اس وقت ملکی حالات انتہائی گھمبیر ہیں،آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ ہم اس حکومت کو گرانا نہیں چاہتے بلکہ یہ حکومت خود گرے گی۔یہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔آئی ایم ایف نے کڑی شرائط عائد کر دی ہیں جس سے ہمارے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اسد عمر نے اپنی پریس کانفرنس میں جو تین باتیں کی ہیں وہ غور طلب ہیں،انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط سخت ہونگی،آئندہ چند ماہ میں دودھ شہد کی نہریں نہیں بہیں گے اور میں عوام پر مزید ظلم کرنا نہیں چاہتا۔حکومت پلان بنا چکی ہے کہ عوام پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔ان کے پاس کوئی بھی اہل شخص نہیں ہے،یہ ملک ڈوبنے جا رہا ہے،ٹائی ٹینک کیساتھ کپتان کو بھی ڈوبنا چاہیئیاور ان کو کابینہ کیساتھ ہی مستعفی ہونا چاہیئے۔

وزیر خزانہ کی سیٹ کو کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں ہے،بجٹ سے قبل اتنی بڑی تبدیلی درست نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہزارہ اور بلوچستان کے واقعات سے چشم پوشی کر رہی ہے،وزیر اعظم اس وقت تک بلوچستان نہیں جا سکے،وزیر اعظم بلوچستان جا کر ہزارہ برادری سے معافی مانگیں۔طاہر داوڑ کے قاتلوں کا اب تک پتہ نہیں چل سکا۔بال ٹمپرنگ کرنا اور بات ہے اور ملک میں سیاست چلانا اور بات ہے،ریاست مدینہ کا نام لیکر انہوں نے عوام کو دھوکا دیا۔

اب حکومت حفیظ شیخ کی منتیں کر رہی ہے۔پلوشہ خان نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ پر بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام ہیاور اس کے کالعدم تنظیموں سے روابط ہیں،حکومت دنیا کو کیا جواب دیگی یہ تمام وزرا نااہل تھے تو وہی وزرا دوسری وزارتوں کیلئے کیسے اہل ہونگی ان وزرا کو کچھ لمحات کیلئے پولیس کے حوالے کر دیں تو یہ سچ بول دینگے کہ قانہوں نے کتنی کرپشن کی ہی انہوں نے کہا کہ عمران نیازی کو اپنے اقتدار کی ڈوبتی کشتی کی فکر ہونی چاہیئے،آصف زرداری نے عدالتوں کا سامنا کیا ،وزیر اعظم بتائیں کے ان کا کاروبار کیا تھا کینسر کے نام پر آپ عوام کا پیسہ کھاتے رہے ،یہ حکومت اقتدار میں رہنے کا جواز کھو چکی ہے،بنی گالا میں نااہلیوں پر ماتم بپا ہے،اب غیر منتخب لوگوں کو آگے لایا گیا ہے جس میں سیپیشتر پیپلز پارٹی کے مسترد شدہ لوگ ہیں،ندیم بابر خود100ارب روپے کا ڈیفالٹر ہے۔

پلوشہ خان نے کہا کہ وزیر اعظم مردانہ وار اپنی نااہلی کو تسلیم کرتے ہوئے کابینہ سمیت استعفیٰ دیں،ملکی حالات کا کون ذمہ دارہی ملک اس وقت آٹو پائلٹ پر چل رہا ہے،اس وقت اپوزیشن پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،اپوزیشن احتجاج پر متفق ہے ،نواز شریف،آصف زرادی اور مولانا فضل الرحمٰن آگے آئیں اور ملک کو ان حالات سے نکالیں،معیشت کا برا حال ہے،سٹاک ایکسچینج میں مسلسل مندی کا رحجان ہے۔وزرا عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں اور ان کے گھر جلائے جا رہے ہیں ،وزیر اعظم آج بھی دھمکیاں دے رہا ہے۔اپوزیشن باہر نکلے اور اس گرتی ہوئی دیوار کو دھکا دے ورنہ عوام حکومت کے خلاف باہر نکلے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔طارق ورک

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments