بجلی چوری اور کنڈہ سسٹم کے خاتمے کیلئے بھرپور اقدامات کئے جارہے ہیں، عمر ایوب

بجلی چوروں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا، جن فیڈڑز پر لائن لاسز زیادہ ہوں گے وہاں پر لوڈ منیجمنٹ جاری رہے گی،وفاقی وزیر کا می اسمبلی میں توجہ دلائو نوٹس کا جواب

منگل اپریل 21:33

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 اپریل2019ء) وفاقی وزیر پانی و بجلی عمر ایوب نے کہا ہے کہ بجلی چوری اور کنڈہ سسٹم کے خاتمے کیلئے بھرپور اقدامات کئے جارہے ہیں۔ بجلی چوروں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا جن فیڈڑز پر لائن لاسز زیادہ ہوں گے وہاں پر لوڈ منیجمنٹ جاری رہے گی جبکہ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی میں توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر بجلی عمر ایوب نے توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے دوران پاکستان میں 80 فیصد فیڈرز میںکوئی لوڈ شیڈنگ نہیں ہے جبکہ گزشتہ چار مہینوں کے دوران ریکوری میں اضافہ ہوا ہے اور لائن لاسز میں 2.4 فیصد کمی کی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے چار ڈسکوز پر زیرو لوڈ منیجمنٹ ہے جبکہ پشاور فاٹا ‘ سکھر اور حیدر آباد الیکٹرک میں مسائل درپیش ہیں انہں نے کہا کہ وزارت نے 51 ارب روپے کے محصولات اکٹھے کئے ہیں جن فیڈرز پر نقصانات ہیں وہاں پر مجبوراً لوڈ منیجمنٹ کرنی پڑ رہی ہے انہوں نے کہا کہ بعض فیڈرز پر 70 سے 90 فیصد تک بجلی لائن لاسز ہیں اس وقت پشاور سمیت مختلف علاقوں میں بجلی چوری روکنے کیلئے آپریشن جاری ہے اور صورتحال مزید بہتر ہوجائے گی اس موقع پر نوٹس کے محرک فضل محمد خان نے کہا کہ 2018 ء کے انتخابات کے بعد ایک میٹنگ کے دوران پیسکو حکام نے تسلیم کیا کہ ہماری مشنری پرانی ہے اگر گرڈ اسٹیشن اور نئی لائنیں بچھائی جائیں تو صورتحال بہتر ہوسکتی یہ اور اس مقصد کیلئے چالیس سے پچاس ارب روپے درکار ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کاہ کہ اس حوالے سے پیسکو حکام کو طلب کریں کہ کیا یہ بات درست ہے یا نہیں وزیر بجلی عمر ایوب نے کہاکہ پسکو میں 85 فیصد لائن لاسز پشاور ‘ ڈی آئی خان اور بنوں کے ایریا میں آرہا ہے ان علاقوں میں سسٹم بیٹھ چکا ہے کے پی کے میں سترہ پرائیویٹ ورکشاپ کام کررہے تھے جس کو ختم کیا گیا ہے پسکو میں نئی تاروں کیلئے ڈھائی ارب روپے جاری کئے ہیں انہوں نے کہاکہ کنڈا کلچر کے خاتمے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے چوروں کے خلاف ستائیس ہزار سے زائد ایف آئی آرز درج ہیں اور چار ہزار کے قریب بجلی چوروں کو جیل بھجوایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ مستقبل میں تمام میٹرز ٹرانسفارمر پر نصب ہوں گے رکن اسمبلی ملک انور تاج نے کہاکہ ملک میں بجلی چوری ختم کرنے کیلئے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہیں اس وقت پسکو کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں ابھی گرمی سروع ہوتئی ہے مگر چارسدہ سمیت مختلف علاقوں میں اٹھارہ سے بیس گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے علاقے میں کنڈہ سسٹم کے خاتمے کیلئے پیسکو حکام کو اقدامات کرنے ہوں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ چارسدہ کے فیدرز میں بھی لائن لاسز بہت زیادہ ہیں انہوں نے کہا کہ علاقے میں کنڈہ سستم کے خاتمے کیلئے اقدامات شروع ہیں اور ایل ٹی لائن کو ایچ ٹی لائن میں تبدیل کررہے ہیں تاکہ کنڈہ سسٹم کا خاتمہ ہوسکے۔ رکن اسمبلی شاہد احمد نے کہا کہ ماضی میں اووربلنگ کی وجہ سے ہماری علاقے کے عوام کو مسائل کا سامنا ہے اس کے عمل کیلئے کیا اقدامات اٹھائے گے ہیں وفاقی وزیر نے کہا کہ کرک کے علاقوں میں لائن لاسز بہت زیادہ ہیں اس میں ادارے کے اہلکاروں کی ملی بھگت شامل ہے انہوں نے کہا کہ پرانے بقایا جات کو قسطوں میں وصول کررہے ہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے انچارج وزیر پیٹرولیم عمر ایوب نے کہا کہ پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارشات اوگرا نے دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دور میں تیل کی قیمتیں بائیس ڈالر فی بیرل تھی تو اس حکومت نے عوام کو اس کا فائدہ نہیں پہنچایا اور چالیس سے پچاس فیصد تک ٹیکسز عائد کئے جسے موجودہ حکومت نے کم کئے ہیں توجہ دلائو نوٹس کے محرک مولانا عبدالاکبر چترال نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر براہ راست عوام پر پڑتا ہے انہوں نے کہا کہ مدینہ کی اسلامی ریاست اور نئے پاکستان کا نعرہ لگانے والی حکومت نے عوام پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کرکے مزید بوجھ ڈالا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا کوئی ارادہ ہے جس پر انچارج وزیر نے کہا کہ وزارت پیٹرویم کی کارکردگی بہت ناقص ہے او جی ڈی سی ایل گزشتہ دس سالوں میں اپنا تیس فیصد ڈرلنگ بھی مکمل نہیں کر سکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں تیل اور گیس تلاش کرنے والی مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں کو سہولیات دیں گے اسی طرح ریفائنری کی صلاحیتیں بھی بڑھائیں گے انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ڈیزل کی قیمت فی لیٹر 129 روپے نیپال میں 115 روپے ہے اگر ہم بین الاقوامی مارکیٹ کے مقابلے میں قیمتیں کم کریں گے تو اس سے ملک کو شدید نقصان ہوگا رکن اسمبلی سعد وسیم نے کہا کہ ایف بی آر حکام نے تسلیم کیا تھا کہ محصولات میں کمی کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے گا پارلیمنٹ کو بتایا جائے کہ ڈالر کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا ہے جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر سترہ فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے رکن اسمبلی نثار احمد چیمہ نے کہا کہ موجودہ حکومت کو غریب عوام کی بددوعائیں اور آہیں کیوں نہیں سنائی دے رہی ہیں۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments