سی پی ڈی آئی کا حکومت بلوچستان کی جانب سے آزادی اطلاعات کے قانون2005ء میں ترمیم کی سفارشات پیش کرنے کیلئے کمیٹی کی تشکیل کاخیر مقدم

بدھ جون 16:38

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 جون2019ء) غیر سرکاری تنظیم سنٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیئٹوز (سی پی ڈی آئی) نے حکومت بلوچستان کی جانب سے آزادی اطلاعات کے قانون2005ء میں ترامیم کی سفارشات پیش کرنے کیلئے کمیٹی کی تشکیل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ معلومات تک رسائی کے عالمی قوانین کے معیارات کے مطابق قانون سازی کرے جس کا مقصد شفافیت کا فروغ اور زیادہ تر معلومات کی ازخود فراہمی ہونا چاہئے۔

سی پی ڈی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عامر اعجاز نے بدھ کو ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ اور وفاقی حکومت نے کمزور قوانین کو مضبوط اور مؤثر قوانین کے ذریعے تبدیل کیا ہے حکومت بلوچستان کو بھی چاہئے کہ وہ اس کی پیروی کرتے ہوئے معلومات تک رسائی کا ایک مؤثر قانون تشکیل دے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون کے تحت عوام اور صحافیوں کو سرکاری معاملات سے متعلق معلومات تک رسائی میں بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بلوچستان فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ2005ء ایک غیر مؤثر قانون ہے اور یہ سرکاری اداروں کے پاس موجود معلومات تک مکمل رسائی فراہم نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کا یہ قانون پاکستان بھر میںآر ٹی آئی کا سب سے کمزور قانون ہے جس میں کئی ایک خامیاں ہیں مثلاً اس کا دائرہ کار محدود ہے، معلومات کے حصول کا طریقہ کار بھی آسان اور مفت نہیں جبکہ فراہم کی جانے والی معلومات کے مقابلہ میں مستثنیٰ معلومات کی فہرست طویل ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ بلوچستان کے شہریوں کو اپیل کیلئے آزاد اور خود مختار فورم دستیاب نہیں ہے جیسا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں آر ٹی آئی کمیشن موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آر ٹی آئی کا ایک مؤثر قانون صوبائی طرز حکمرانی میں شفافیت لانے اور احتساب کے عمل کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments