سینیٹر فدا محمد کی زیر صدارت ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس

منگل جون 23:16

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 جون2019ء) ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فدا محمد کی زیر صدارت پارلیمینٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 2اپریل 2019 کو منعقد ہونے والے اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآ مد کے علاوہ ذیلی کمیٹی برائے توانائی کی تجویز کردہ 17 سفارشات اور ذیلی کمیٹی کی لاکھڑا پاور پلانٹ کے حوالے سے رپورٹ پر عملدرآمد کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن نے اجلاس کو بتایا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سامنے کمیٹی کی سفارشات پیش کر دی گئی تھی جس نے رپورٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بورڈ نے کمیٹی کی لاکھڑا پاور پلانٹ کے حوالے سے کی گئی محنت اور قیمتی سفارشات کو سراہا اور ہدایات جاری کی گئی کہ سفارشات کی روشنی میں تکینکی اور مالیاتی تشخیصی رپورٹ تیار کرنے کیلئے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی جائے اس پر جلد سے جلد عمل شروع کرایا جائے گا ۔

(جاری ہے)

فنڈنگ کیلئے معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ 04جولائی کو لاکھڑا پاور پلانٹ کی بحالی کے لئے کام شروع ہو جائے گا۔صوابی، جمرود اور کوہاٹ کے گریڈ اسٹیشن کے قیام کیلئے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ جمرودگریڈ اسٹیشن کیلئے ایشیائی ڈیویلپمنٹ بینک اور کوہاٹ گریڈ اسٹیشن کیلئے ورلڈ بینک فنڈ دے گا ۔ صوابی کیلئے پی سی ون بن چکا ہے ابھی منظور نہیں ہوئی۔

02اپریل 2019کو منعقد ہونے والے اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کے بارے کمیٹی کو تفصیلی آگاہ کیا گیا ۔ سکی کناری ہائیڈل پروجیکٹ کیلئے حاصل کر دہ زمین کے مالکان کو دوگنا ادائیگی کے حوا لے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم پاکستان کو خط لکھ دیا گیا ہے ابھی جواب نہیں آیا۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جواب آنے پر معاملے کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کوہاٹ میں بجلی کی تقسیم کی بحالی کے منصوبوں کو پی ایس ڈی پی 2018-19 کے خصوصی وفاقی پروگرام کے تحت مختص کئے گئے تھے فنڈز کی بحالی کیلئے کیس 25مارچ 2019کو وزارت منصوبہ بندی کو بھیجا گیا مگر ابھی تک جواب فراہم نہیں کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسکیموں کا 80فیصد بجٹ مل چکا ہے مزید کام بجٹ ملنے پر شروع ہو گا۔ یہ خصوصی اسکیمں تھی جو بند ہو چکی ہیں ۔

منصوبے کو مکمل کرنے کیلئے واحد راستہ ایس ڈی جیز کی طرف سے فنڈز کی فراہمی یا موجودہ مالی سال میں پی ایس ڈی پی میں شامل کیا جائے۔ قائمہ کمیٹی نے معاملہ وزارت منصوبہ بندی کو بھیجتے ہوئے ہدایت کی کہ وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر اسکا حل نکالا جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مکران میں پورا سسٹم اپ گریڈ کیا جا رہا ہے جس کیلئے 17ارب روپے درکار ہونگے فنڈز ملنے پر یہ منصوبہ 2021میں مکمل کر دیا جائے گا۔

سیکرٹری توانائی نے کمیٹی کو بتایا کہ کیسکو اور فیسکو کیلئے فنڈنگ کی اشد ضرورت ہے ۔ پیسکو میں بہتری نظر آرہی ہے ۔سیپکو اور ہیسکو کے معاملات بھی بہتر ہو رہے ہیں جس پر سینیٹر آغا شاہ زیب دورانی نے کہا کہ بلوچستان کے منصوبوں کیلئے معاملات کو موثر بنایا جائے بہتر یہی ہے کہ وزارت خزانہ ، وزارت منصوبہ بندی وہاں کے نمائندوں کے ساتھ ملکر مشترکہ اجلاس بلاکر لائحہ عمل اختیار کریں۔

سیکرٹری توانائی نے کمیٹی کو بتایا کہ بلوچستان میں بجلی کے نظام کو بہترکرنے کیلئے وفاق اور صوبائی سبسڈی یقینی بنائی جائے ۔ گوادر کول پاور کے مسائل حل کر دئیے ہیں اور ایران کے ساتھ 70میگا واٹ بجلی کے مذاکرات کامیاب ہو چکے ہیں ۔کمیٹی کو بتایا کہ IPD نے باقی کاموں کو مکمل کرنے کے لئے کوششیں شروع کی ہیں تیسری اور فائنل ادائیگی سو فیصد کام کی تکمیل کا سرٹیفیکٹ ، آڈٹ سرٹیفیکٹ ، کوالٹی چیک رپورٹ وغیرہ جمع کرانے پر ادا کی جائے گی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پیسکو نے عمر حیات خان کے متعلقہ تمام کاغذات تصدیق کیلئے کمشنر پشاور کو بھیج دیئے گئے تھے جنہوں نے تصدیق کر دی ہے ۔ جس پر چیئرمین کمیٹی فدا محمد نے کہا کہ اس کی دو دفعہ تصدیق کروائی گئی ہے ۔95خسرہ نمبر کو تبدیل کر کے 70کیا گیا ہے اور اس کے بڑوں نے جو لکھ کر دیا ہے وہ کمیٹی کو فراہم کیا جائے او ر دوبارہ تصدیق کرائی جائے۔

بجلی کی چوری کی روک تھام ، لائن لاسز کی کمی اور ڈسٹری بیوشن کمپنیز کے مجموعی کاموں اور کارکردگی کو منظم کرنے کے حوالے سے دی گئی ذیلی کمیٹی کی 17سفارشات پر عملدرآمد کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ ذیلی کمیٹی کے کنونیئر نعمان وزیر خٹک کی موجودگی میں عملد رآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔ سیکرٹری توانائی نے کمیٹی کو بتایا کہ بجلی چوری کو روکنے اور ریکوری کی وصولی کے لئے جو اقدامات اُٹھائے گئے ہیں وہ آج سے پہلے نہیں اٹھائے گئے تھے۔

جس سے نہ صرف اربوں روپے کی ریکوری ہوئی ہے بلکہ اربوں روپے کی بجلی چوری بھی روکی گئی ہے۔ اجلاس میں سینیٹرز مولا بخش چانڈیو، محمد اکرم، آغا شاہ زیب درانی، مولوی فیض محمد کے علاوہ سیکرٹری توانائی عرفان علی، ایڈیشنل سیکرٹری توانائی منیر اعظم، ایڈیشنل سیکرٹری وسیم ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments