ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کا اجلاس

جمعہ جولائی 00:01

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 جولائی2019ء) ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشاہد اللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ ڈائریکٹر ایچ آرسول ایوی ایشن اتھارٹی ثمر رفیق نے کمیٹی کو بتایا کے تمام رپورٹس کو سٹڈی کیا ہے، پہلے شاہد رفیق اور پھر بعد میں شمس الملک کی رپورٹ آئی اور ایف آئی اے کی رپورٹ میں ٹیکنکل کرپشن کے اثار ہیں جبکہ مالی کرپشن نظر نہیں آئی۔

اسلام آباد ایئر پورٹ کی تعمیر میں مالی بے ضابطگیوں پر دو انکوائریاں ہوئیں۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ سنگل رن وے تھا، ٹیکسی ٹریک کو کسطرح رن وے میں تبدیل کیا گیا۔ یہ فیصلہ کس نے کیا کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔ وفاقی وزیر ایوی ایشن غلام سرور خان نے کہا کہ اس منصوبے کا پی سی ون 2006میں 38 ارب کا بنا تھا اور منصوبے کو 2010میں مکمل ہونا تھا جو 2018میں 105ارب روپے کی مد میں فنکشنل ہوا اور ابھی تک مکمل نہیں ہے۔

(جاری ہے)

یہ معاملہ نیب اور ایف آئی اے کو بھیجا گیا اور پی اے سی میں بھی کئی بار اٴْٹھایا گیا۔17پیکجز پر بھی انکوائری ہونی چاہئے کون ثالث تھا اور دیگر بے شمار چیزیں ہیں جنکی انکوائری ہونی چاہئے۔ منصوبے میں سول ایوی ایشن کے لوگ ملوث ہیں اور یہ منصوبہ 125 ارب تک جائے گا۔ وزیراعظم کو اس حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا ہے۔ ذمہ داران کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔

مسئلے کو دیانتد اری سے حل کیا جائے گا اور ملوث لوگوں کو قرار واقعی سزاد ی جائے گی۔ انٹرنل انکوائری کر کے انٹریم رپورٹ کمیٹی کو چار ہفتوں میں اور حتمی رپورٹ آٹھ ہفتوں میں کمیٹی کو فراہم کر دی جائے گی۔ قائمہ کمیٹی کو موجودہ سال کے دوران پی آئی اے کی بہتری کیلئے اٴْٹھائے گئے اقدامات بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سات نئے منافع بخش روٹس کھولے ہیں۔

06نقصان والے روٹس بند کئے ہیں جن میں لاہور سے دہلی اور کراچی سے ڈھاکہ اور کراچی سے کابل و دیگر روٹس شامل ہیں۔ کارگو سروسز کو مزید بہتر کیا ہے۔ 05سٹار ہوٹلوں کی بکنگ کم کی ہے۔ پروازو ں کی تاخیر کم کر نے کی بھر پور کوشش کی جا رہی ہے اور منافع بخش روٹس پر پروازوں کی تعداد میں اضافے سے نمایاں بہتری آ رہی ہے۔ 30جولائی سے موبائل ایپ بھی شروع کر رہے ہیں جس سے کافی مسائل حل ہو جائیں گے اور وہ جہاز جو گرونڈ ہو چکے تھے اٴْن کو محنت سے ٹھیک کر کے دوبارہ پروازیں شروع کرائی ہیں جس میں 777 بھی شامل ہے۔

اس سے سالانہ 5ارب کی آمدن حاصل ہو گی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پانچ ملین ڈالر کے ڈیڈ انجن بھی فروخت کئے گئے ہیں۔400 کیبن عملہ جو ڈیوٹی نہیں کرتا تھا اٴْن کو ریگورلر کیا گیا ہے۔ 200 گھوسٹ ملازمین کو فارغ کیا گیا ہے۔فلائٹ ڈیوٹی ٹائم میں اضافہ کیا گیا ہے اور اضافی عملے کو موثر جگہوں پر ٹرانسفر کر کے بہتری لائی گئی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا آفیسرز و عملے کی ملکی و غیر ملکی دورے ختم کرائے ہیں اور غیر ضروری الاوئنسز بھی کم کئے ہیں۔

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی آئی اے کی سات بیرون ملک جائدادیں ہیں جن کی تذین و آرائش کر کے کرایہ پر دیا جا رہا ہے۔اور ادارے کی پاکستان کے مختلف شہروں میں 29جائیدادے ہیں جن کوموثر استعمال میں لانے کے لئے اقدامات اٴْٹھائے جا رہے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ حکومت نے لاڑکانہ میں پی آئی اے کو ایک پلاٹ دیا تھا جس پر ایک ہوٹل قائم کیا گیا تھا سند ھ حکومت نے اس پر قبضہ کر لیا ہے۔

معاملہ سندھ حکومت سے اٴْٹھایا گیا ہے۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس اس حوالے سے رپورٹ طلب کر لی۔ کمیٹی اجلاس میں پی آئی اے کے ملازمین کی پینشن کے معاملہ کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ملازمین کی پینشن انتہائی کم ہے اس کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ثناء وحید کو ہراساں کیے جانے کے معاملے کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے کر رپورٹ حاصل کی جائے گی۔

سی ای او پی آئی اے نے کہا کہ مسئلہ حل کر لیا ہے اور مس ثناء نے کیس واپس لے لیا ہے۔کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید، حاصل خان بزنجو، نعمان وزیر خٹک، حاجی مومن خان آفرید ی، شیر ی رحمن، ثمینہ سعید، منظور احمد کاکڑ اور بہرہ مند خان تنگی کے علاوہ وفاقی وزیر ایوی ایشن غلام سرور خان، سیکرٹری ایوی ایشن شاہ رخ نصرت، سی ای او پی آئی اے ائیر مارشل ارشد، جی ایم پی آئی اے اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments