سینیٹرمیر محمد یوسف بادینی کی زیر صدارت سینیٹ کی ہائوس کمیٹی کا اجلاس

گزشتہ کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد ،پارلیمنٹ لاجز کے اضافی بلاک کی تعمیر بارے ٹھیکید ار اور سی ڈی اے کے مابین معاملات، ایمبولینس کی فراہمی ودیگر معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا

جمعہ ستمبر 19:22

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 ستمبر2019ء) سینیٹ کی ہائوس کمیٹی کا اجلاس سینیٹرمیر محمد یوسف بادینی کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میںمنعقد ہوا ۔ ہائوس کمیٹی اجلاس میں گزشتہ کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کے علاوہ پارلیمنٹ لاجز کے اضافی بلاک کی تعمیر کے حوالے سے ٹھیکید ار اور سی ڈی اے کے مابین معاملات، لانڈری اور بار بر شاپس کیلئے ری ٹینڈرنگ میں تاخیر پر کمیٹی کی ہدایت کے مطابق انکوئری رپورٹ ، پارلیمنٹ لاجز کیلئے ایمبولینس کی فراہمی کے معاملات کے علاوہ پارلیمنٹ لاجز میں سینٹری ورکرز کی محکمہ پولیس سے تصدیق کے حوالے سے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔

سینٹری ورکرز کی تصدیق کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ فہرستیں صوبوں کو بھیج دی ہیں ایک ماہ تک رپورٹ تیار کر دی جائے گی ان ورکرز کو حساس مقامات پر لگانا ہوتا ہے اسلئے ان کی تصدیق دوبارہ کرائی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

پارلیمنٹ لاجز میں ایمبولینس کی فراہمی کے حوالے سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پولی کلینک نے کمیٹی کو بتایا کہ ایمبولینس 8ملین تک ملے گی اس کی کو ٹیشن منگوالی ہے اور احتیاطً قیمتوں میں اضافے کی وجہ سی10فیصد اضافی مارجن کی سمری بھیج دی ہے فنڈز ملنے کے تین ما ہ کے اندر گاڑی موجود ہو گی۔

ہائوس کمیٹی نے اس حوالے سے کیبنٹ ڈویژن کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ۔سینیٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ جو ادویات دی جاتی ہیں اُس کے لئے ایک چھوٹی سی فارمیسی کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے ۔اول تو وہاں سے دوائی ملتی نہیں اگر ملے بھی تو زائدا لمعیادکے قریب ہوتی ہے ۔ سینیٹر کلثوم پروین نے لاجز کے ڈاکٹروں کے آئے دن کے تبادلوں کا مسئلہ اٹھایا تو ای ڈی پولی کلینک نے کمیٹی کو بتایا کہ پارلیمنٹ لاجز میں تین ڈاکٹر تعینات تھے جو دو گھنٹوں سے زیادہ ڈیوٹی نہیں کرتے تھے ہمارے پاس 35ڈسپنسریاں ہیں اور 80فیصد لوگ ڈیوٹی صحیح سرانجام نہیں دیتے ۔

35میں سے 15ڈسپنسریاں نان سینکشنڈ تھیں۔ پارلیمنٹ ہائوس اور لاجز میں 6 ڈاکٹروں کو تعینات کیا گیا ہے سینئر ترین ڈاکٹر کو ان کا ہیڈ بنایا گیا ہے اور جو ڈاکٹر پوری ڈیوٹی ادا نہیں کر ے گا ہیڈ اسکا ذمہ دار ہو گا ۔اصلاح کیلئے اقدامات اٹھا رہا ہوں اب میعاری فارمیسی کے ساتھ ٹھیکہ کیا جائے گا ۔ جو دوائی لکھی ہو گی وہی ملے گی ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وفاقی دارالحکومت میں ڈرگ ٹیسٹنگ لیب ہی موجود نہیں ہے اور بغیر ٹیسٹ کے دوائی دینا ایک جرم ہے ۔

ڈرایپ کے پاس ایک لیب ہے جو کام نہیں کرتی۔ انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ چھ ماہ کے اندر اسلام آباد میں ڈرگ ٹیسٹنگ لیب بنا لی جائے گی۔ اراکین کمیٹی نے اسلام آباد میں تیزی سے پھیلتے ہوئے ڈینگی پر تشویش کا اظہار کیا اور پارلیمنٹ لاجز میں ڈینگی سپرے کرنے کی سفارش کی ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فائر سیفٹی پلان کا پی سی ون 120ملین روپے کا بنا دیا گیا ہے ٹینڈرینگ میں تاخیر پر انکوائری رپوٹ کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ کل رات کو رپورٹ مل گئی ہے اس پر پراسسز شروع کر کے کمیٹی کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

بیوٹی پالر کیلئے جلد ٹینڈر کیا جائے گا ۔ پارلیمنٹ لاجز میں لفٹوں کی خرابی کے حوالے سے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا کونے کمپنی کے ٹھیکدار کے نمائندے نے کمیٹی کو بتایا کہ پارلیمنٹ لاجز میں 7 لفٹیں ہیں 3ستمبر کو تمام لفٹوں کا سروے کیا یہ لفٹیں 1996-98میں لگائی گئی تھیں جو اپنی مدت پوری کر چکی ہیں انکے سپیئر پارٹس بھی مارکیٹ سے ملنا مشکل ہیں۔

لفٹوں کی تار اور کنٹرول روم کسی بھی وقت جواب دے سکتے ہیں اگر چین کی کمپنی سے مرمت اور کچھ پارٹس کی تبدیلی کرائے تو ایک لفٹ پر 5ملین اور ترکی کی کمپنی سے کرائے تو 4ملین لاگت آئے گی سینیٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز کی لفٹوں کو بھی چیک کیا جائے ۔ ہائوس کمیٹی نے پارلیمنٹ لاجز اور پارلیمنٹ ہائوس کی لفٹوں کی مرمت جلد سے جلد کرنے کی سفارش کر دی ۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ناصر عباس کے ٹیلی فون اٹینڈ نہ کرنے کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ہائوس کمیٹی نے ڈپٹی ڈائریکٹر کو وارننگ لیٹر جاری کرنے کی ہدایت کر دی ۔ کمیٹی کو پارلیمنٹ لاجز کے اضافی بلاکس کی تعمیر کے حوالے سے بتایا گیا کہ انور علی ایسوسی ایٹ کے پاس اضافی بلاک کے منصوبے کے علاوہ ایک دوسرا منصوبہ دو ایکڑ پر کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے لئے دفاتر قائم کرنے کا تھا ۔

کنسلٹنٹ کے حوالے سے اُن پر آڈٹ پیرا لگا ۔ پی اے سی نے کیس ایف آئی اے کو ریفر کیا اُن کے خلاف انکوائر ی چل رہی ہے۔ کمیٹی نے انور علی ایسوی ایٹ کے ساتھ منصوبہ ختم کرنے کی سفارش کر دی تا کہ جلد سے جلد دوسری کمپنی کے ساتھ منصوبہ مکمل کیا جائے ۔ سینیٹر میر محمد بادینی نے کہا کہ سی ڈی اے حبیب رفیق کمپنی کے ساتھ مل کر معاملات طے کرے کمپنی کے تحفظات تحریری طور پر ریکارڈ کئے جائے تا کہ جلد سے جلد منصوبے پر کام مکمل کرایا جا سکے ۔

کمیٹی کے جمعہ کوہونیوالے اجلاس میں سینیٹرز میر محمد یوسف بادینی ، کہدہ بابر، ثمینہ سعید ، کلثوم پروین کے علاوہ جوائنٹ سیکرٹری وزارت داخلہ ،ممبر انجینئرنگ سی ڈی اے ، ڈائریکٹر جنرل ورکس سی ڈی اے پارلیمنٹ لاجز ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پولی کلینک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments