صوفیائے کرام کی تعلیمات انتہا پسندی سے بچانے کا نسخہ کیمیا ہے، سیاسی ومذہبی رہنما

معاشرے کے تمام طبقات میں اسلام کی حقیقی روح بیدارکرنے کے لیے صوفی ازم کا فروغ ضروری ہے آزادی کشمیر کی منزل قریب تر ہے عالمی برادری بھارتی بربریت کانوٹس لے مسلم ممالک باہمی اتحاد کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والیظلم وستم اور کرفیو کے خلاف آواز بلند کریں، بابراعوان، علی نواز اعوان ،غلام سرور ہزاروی و دیگر کا خطاب

منگل اکتوبر 23:59

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 اکتوبر2019ء) قومی سیاسی ومذہبی رہنمائوں ،علماء کرام نے کہا ہے کہ صوفیائے کرام کی تعلیمات انتہا پسندی سے بچانے کا نسخہ کیمیا ہے، معاشرے کے تمام طبقات میں اسلام کی حقیقی روح بیدارکرنے کے لیے صوفی ازم کا فروغ ضروری ہے آزادی کشمیر کی منزل قریب تر ہے عالمی برادری بھارتی بربریت کانوٹس لے مسلم ممالک باہمی اتحاد کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والیظلم وستم اور کرفیو کے خلاف آواز بلند کریں ان خیالات کا جماعت جلالیہ پاکستان کے زیر اہتمام بارہویں سالانہ افکار صوفیاء ویکجہتی کشمیر کانفرنس' سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کی صدارت جماعت جلالیہ پاکستان کے سربراہ الحاج پیر سید محمد نویدالحسن شاہ مشہدی سجادہ نشین آستانہ عالیہ بھکھی شریف نے کی جبکہ ،پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماڈاکٹر بابر اعوان،وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی علی نواز اعوان،جماعت جلالیہ پاکستان کے سینئر نائب صدرغلام سرورہزاروی،مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد ظفراقبال جلالی،تحریک تحفظ اسلام انٹرنیشنل کے امیر غازی محمد ثاقب شکیل جلالی،حریت رہنما عبدالحمیدلون،سید منظورشاہ گیلانی،سید عمیر شاہ ،ودیگر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ،کانفرنس میں آزادیء کشمیر کے لیے خصوصی قراردادمنظورکی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ آزادی کشمیر کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، پیر سید محمد نویدالحسن شاہ مشہدی نے کہا کہہ صوفیاء کے افکار کو مشعل راہ بنانے کی ضرورت ہے،صوفیاء امن کے سفیر ہیں ان کی تعلیمات کو اپنا کر دنیا میں امن قائم کی جاسکتا ہے،صوفیاء کے آستانوں سے محبت اور رواداری کا درس ملتا ہے۔

(جاری ہے)

صوفیائے کرام نے قیام پاکستان کیلئے قائد اعظم کا ساتھ دیااب کشمیر کی آزادی بھی صوفیائے کرام کی تعلیمات وافکار پر عمل پیراہوکرممکن ہے۔صوفیائے کرام کی قومی و دینی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں، انہوں نے مزیدکہا کہ صوفی ازم کے نام پر ناچ گانے کی محفلیں سجانے والے صوفیائے کرام کے پاکیزہ پیغام پر دھبہ ہیں،صوفیاء کی تعلیمات سے انسان دوستی کا سبق ملتا ہے معاشرے میں کٹھن حالات صوفیائے کرام کی تعلیمات کی دوری کی وجہ سے ہیں، ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ صوفیاء کی تعلیمات نے ہر دور انسانیت کی مدد اور رہنمائی کی ہے۔

آج مسلمانوں کے خلاف گھناؤنی سازشیں ہو رہی ہیں۔ ان پر فتن حالات میں تعلیمات صوفیاء کے دئیے جلانے کی ضرورت ہے۔ انسانیت کی بھلائی ہی صوفیاء کا پیغام ہے وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی علی نواز اعوان نے کہا کہ ا سوقت کشمیر ی آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں پوری قوم انکے ساتھ ہے انھوںنے کہا کہ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ حسن کردارسے پھیلا آج دھرنا دینے والوں نے کشمیر کمیٹی انجوائے کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا پ نے دس برسوں میں بحثیت چیئرمین کمیٹی کشمیر کی کیا خدمت کی آج کشمیر کا معاملہ عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے تو آپ دھرنہ دینے نکلے ہیں پچاس برس بعد پہلی مرتبہ سلامتی کونسل میں کشمیر کے مسئلے پر غور ہوا عمران خان کیدور میں مسئلہ کشمیر حل ہوگا ،کانفرنس میں مطا لبہ کیا گیاکہ صوفیا ء کرام کی تعلیمات وکردار کو شامل نصاب کیا جائے تاکہ ہمارے آنے والی نسلیں صوفیاء کی تعلیمات وافکار سے روشناس ہو سکیں۔

کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان کی جامعات ویونیورسٹیز میں صوفی چیئر کا بھی اہتمام کیا جائے۔کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام مسلم ممالک باہمی اتحاد کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والیظلم وستم اور کرفیو کے خلاف آواز بلند کریں اور کشمیر مسلمانوں بھائیوں کی آزادی کیلئے عملی میدان میں اتریں،کانفرنس میں ڈاکٹر محمد اسلم جلالی،حافظ یوسف رضا جلالی،علامہ فتح خان چشتی،مولانا اصغر توحیدی،مولانا وحید عالم،مفتی عظمت رضا،طاہر اقبال چشتی،قاری عظیم قادری،برگیڈیر منیراحمد،سید جہانگیر شاہ سعیدی،عبدالقادرسکندری،قاری محمد اسحاق نورانی،قاری عبدالرحمن جلالی،سمیت دیگرعلما نے بھی خطاب کیا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments