پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہے، بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کو نظر انداز نہیں کرنے دیں گے ،سینیٹر میرکبیر محمدشہی

ہفتہ دسمبر 23:26

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 دسمبر2019ء) پی ایس ڈی پی میں نئے منصوبے شامل کرنے کی وجوہات اور تفصیلات جاننے کے حوالے سے ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ترقیات و اصلاحات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنونیئر کمیٹی سینیٹر میرکبیر احمد محمد شہی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا میرکبیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری منصوبہ بندی نے خط بھیجا کے مصروفیات کی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکتا اور متعلقہ وزیر کی طرف سے عدم شرکت کی کوئی اطلاع بھی نہیں دی گئی پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہے مالی سال 2019-20کا بجٹ منظور ہونے کے بعد ہاؤس آف فیڈریشن کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقیات کے اجلاس میں چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کمیٹی نے کچھ نئی اسکیمیں شامل کرنے کا کہا تو کمیٹی کو واضح طور پر آگاہ کیا گیا کہ بجٹ منظور ہو چکا ہے اب نئی اسکیمیں شامل نہیں کی جا سکتیں حیرت کی بات ہے اٴْسی بجٹ میں 42نئی اسکیمیں شامل کی گئی یہ اسکیمیں کس کی منظور ی سے شامل کی گئی ہیں ان اسکیموں کی مکمل تفصیلات بشمول لاگت، کہاں کہاں اور کس صوبے میں ہیں کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں متعلقہ وزیر اور سیکرٹری منصوبہ بندی کمیٹی کو نئی اسکیموں کی تفصیلات سے آگاہ کریں قائمہ کمیٹی کے ساتھ غلط بیانی کی گئی اس کا جائزہ لیاجائے گا میرکبیرنے کہا کہ بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کو نظر انداز نہیں کرنے دیں گے کوئٹہ میں درجہ حرارت منفی میں چل رہاہے بچے نیچے فرش پر بیٹھ کر امتحانات دیں رہے ہیں اگرصوبائی دارالحکومت کا یہ حال ہے تو باقی شہروں کا کیا حال ہو گا ہمارے صوبے کے 93فیصد لوگوں کو گیس کی سہولت نہیں ہے اور 88فیصد لوگ بجلی سے محروم ہیں سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ ہمارے صوبے کے وہ منصوبے جو چند سالوں سے چلے آ رہے تھے اٴْن کی فنڈنگ روک لی گئی ہے جو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقیات و اصلاحات اور سیکرٹری منصوبہ بندی ترقیات و اصلاحات کی عدم شرکت پر کمیٹی کا اجلاس احتجاجاً موخر کر دیا گیا اجلاس میں سینیٹر ز عثمان خان کاکڑ ،انجینئر رخسانہ زبیری ‘ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments