سابق چیف سیکرٹریز کمیٹی نے سول سروس اصلاحات کیلئے سفارشات دے دیں

اعظم خان کی زیر صدارت اجلاس، صوبوں میں سے 600آسامیاں ختم کرنے کے فیصلے پر تشویش کا بھی اظہار

بدھ فروری 18:12

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 فروری2020ء) سابق چیف سیکرٹریز کی کمیٹی میٹنگ میں وزیراعظم عمران خان کے سول سرونٹس کیلئے سروس سٹرکچر، استعداد کار بڑھانے، پیشہ وارانہ ترقی اہلیت اور پروفیشنلزم کے معیار کو بڑھانے کیلئے اصلاحات کا خیر مقدم کیا ہے۔کمیٹی میٹنگ سابق چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اعظم خان کی زیر صدارت ہوئی۔ اِس میٹنگ میں صوبائی ایڈمنسٹریٹر سروس گروپ(پاس) کی آسامیوں کی تعداد کم کیے جانے کے ایشو پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

کمیٹی کے مطابق یہ ایشو حل شدہ ہے اور اِسے ماضی میں فارمولہ شیئرنگ کے تحت حل کیا جا چکا ہے۔ اِس معاملے پر نظر ثانی کی بھی ضرورت نہیں۔ صوبوں میں سے 600آسامیوں کو ختم کیا جانا باعث تشویش ہے۔ اِس اقدام سے جونیئر افسران میں بے چینی بڑھے گی۔

(جاری ہے)

میٹنگ میں اِس بات کی جانب توجہ مبذول کرائی گئی کہ ایڈمنسٹریٹو مینجمنٹ سے متعلق مسئلے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے تاکہ ایڈمنسریٹو مینجمنٹ کے حوالے سے منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔

پاس میں ٹیکنو کریٹس کی شمولیت بھی نیک شگون نہیں ہوگی اِس حوالے سے بھی کمیٹی نے اپنی تشویش ظاہر کی کہ اس اقدام سے سنیارٹی ترقی سے مسائل پیدا ہوں گے۔ پاس افسران کی تقرری سخت مقابلے کے بعدمیرٹ کی بنیاد پر ہوتی ہے۔کمیٹی نے 1960ء کی دہائی کے سول سرونٹس کے معیار کی تعریف پر بھی وزیراعظم عمران خان کے تاثرات کو سراہا کہ اِس افسران کے ملکی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

اُس وقت کی بیوروکریسی نے ملکی ترقی اور معاشی خوشحالی کیلئے بہتر ماحول پیدا کیا اور بعدازاں انتظامی اصلاحات سے مزید پیش رفت نہ ہو سکی اور موزوں آسامی پر موزوں آفیسر کی تعیناتی کے معیار میں تبدیلی رونما ہوئی۔ تاہم اِس کے باوجود پاس افسران کے تمام تر روکاٹوں، فیلڈ مسائل اور مختلف جانب سے پریشر کے باوجوداپنی پیشہ وارانہ خدمات بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ میٹنگ میں اِس بات کا اعادہ کیا گیا کہ ایسی اصلاحات نافذ کی جائیں جس سے اِن افسران کی حوصلہ شکنی کی بجائے حوصلہ افزائی ہو سکے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments