سپریم کورٹ :آزاد کشمیر کو بجلیمد میں ٹیکس وصولی کا تنازع ایک ماہ میں حل کرنے کی ہدایت

طے پائے جانے والے معاہدے میں وفاقی حکومت کی وجہ سے مسئلہ پیدا ہو رہا ہے،جسٹس عمر عطاء بند یال

منگل اکتوبر 22:28

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 27 اکتوبر2020ء) سپریم کورٹ نے کابینہ، وزارت توانائی اور وزارت خزانہ کوآزاد کشمیر کو بجلی دینے پر ٹیکس وصول کرنے کا تنازعہ ایک ماہ میں حل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نیکی۔دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر کے درمیان معاہدے کا معاملہ ہے،اس معاہدے میں وفاقی حکومت کی وجہ سے مسئلہ پیدا ہو رہا ہے،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے قبل ازیں یقین دہانی کرائی تھی کہ بجلی ٹیکس فری ہوگی،بجلی پر ٹیکس تب لگے گا جب برآمد ہوگی اور برآمد تب ہوگی جب بیرون ملک بھیجی جائے گی،دیکھنا ہو گا کہ کیا آزاد کشمیر اپنے صارفین سے ٹیکس وصول کر رہا ہی وکیل آزاد کشمیر علی سبطین فضلی نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ آزاد کشمیر حکومت اپنے شہریوں سے بجلی پر سیلز ٹیکس وصول کر رہی ہے،دو ہزار تین سے دو ہزار دس تک وفاقی حکومت نے ٹیکس وصول نہیں کیا،پھراچانک وفاقی حکومت کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری ہو جاتا ہے، اگر دونوں حکومتوں کے درمیان معاہدہ نہیں تو ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ذمہ داری لینا ہو کہ اس حوالے سے موجود دستاویزات جعلی ہیں ،اگر ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہے تب بھی آزاد کشمیر ایک آزاد ریاست ہے،آزاد کشمیر کو بجلی کی برآمدگی پر سیلز ٹیکس زیرو ریٹیڈ ہوگا،وفاقی حکومت نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے کوئی ایکشن نہیں لیا.نمائندہ ایف بی آر نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ اس معامل? پر دونوں حکومتوں کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے صرف یاد داشت ہے، اس یاداشت پر صدور مملکت کے دستخط موجود نہیں ہیں۔

(جاری ہے)

عدلت عظمیٰ نے اس موقع پر قرار دیا کہ آئیسکو اور ایف بی آر وفاقی حکومت کے ماتحت ادارے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل حکومت کو معاملے کی اہمیت سے آگاہ کریں،وفاقی حکومت قانون کے مطابق بجلی پر سیلز ٹیکس وصولی کا معاملہ حل کرے، عدالت عظمیٰ نے کابینہ، وزارت توانائی اور وزارت خزانہ کوآزاد کشمیر کو بجلی دینے پر ٹیکس وصول کرنے کا تنازعہ ایک ماہ میں حل کرنے کی ہدایت دیتے ہ ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی ہے۔۔۔۔توصیف

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments