پرائیوٹ اور پبلک پارٹنرشپ پروگرام سے پی ایس کیو سی اے کی آمدنی میں تقریباً 40 فیصد تک کمی آئے گی

منگل اکتوبر 22:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 27 اکتوبر2020ء) وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے غذائی اور غیر غذائی ضروری اشیا کی جانچ آؤٹ سورس (بیرونی ذرائع) سے کرانے کا فیصلہ کرلیا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق وزارت کی ویب سائٹ پر یہ معلومات موجود ہیں لیکن وزارت کے مختلف محکموں میں موجود ماہرین اور حکام نے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت وزارت کے محکموں سے جڑی پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی ای) سے 160 سے زائد اشیا کے معیار کا معائنہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تاہم منصوبے کے تحت اشیا کے ٹیسٹ کے بعد پرائیوٹ لیبس اور کمپنیز مطابقت سرٹیفکیٹ، لائسنسز اور مارکنگ جاری جاری کریں گی جبکہ وزارت اس منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے کنسلٹنٹ رکھے گی۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے وزارت کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ آؤٹ سورس کے ذریعے جانچ پڑتال پی ایس کیو سی اے کے اختیارات کی منتقلی جیسا ہوگا اور اس سے اتھارٹی کے بہت سے محکمے بے کار ہوجائیں گے۔ واضح رہے آؤٹ سورس کا فیصلہ اتھارٹی کے کاموں سے متعلق پی ایس کیو سی ایکٹ 1996 کی خلاف ورزی کے برابر ہے جبکہ مجوزہ ماڈل بہت سے بین الاقوامی معیار کے اداروں اور تنظیموں کے ساتھ معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب حکام نے اتھارٹی میں ملازمین میں کمی کیے جانے کا خطرہ ظاہر کیا کیونکہ مجوزہ پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام سے پی ایس کیو سی اے کی آمدنی میں تقریباً 40 فیصد تک کمی آئے گی۔ مزید یہ کہ ا?ؤٹ سورسنگ پلان نے تجویز دی کہ پاکستان اسٹینڈرڈ اسپیسی فکیشن ضروریات کے مطابق معائنے، ٹیسٹنگ اور مطابقت کی تشخیص کا کام پی ایس کیو سی اے میں محدود تکنیکی انسانی وسائل کو دیکھتے ہوئے تھرڈ پارٹی (پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ) انسپکٹرز کریں گے۔

متعلقہ عنوان :

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments