حکومت سرمایہ داروں ، ذخیرہ اندوزوں اور عوام کی جیب کاٹنے والے مافیا کی محافظ بن گئی ہے،لیاقت بلوچ

ملک کی معاشی صورتحال خطرناک ہوچکی ہے،وزیراعظم عمران خان جس اقتصادی بہتری کے دعوے کر رہے ہیں ، وہ اونچے درجے کی ایلیٹ کلاس کی خوشحالی ہے،نائب امیرجماعت اسلامی ْ

بدھ نومبر 21:29

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 نومبر2020ء) نائب امیر جماعت اسلامی اور سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ ملک کی معاشی صورتحال خطرناک ہوچکی ہے ۔ حکومت سرمایہ داروں ، ذخیرہ اندوزوں اور عوام کی جیب کاٹنے والے مافیا کی محافظ بن گئی ہے ۔ عوام کے لیے گندم ، آٹا ، چینی ، چاول ، چکن ، ٹماٹر ، ادرک ، انڈے ، خوردنی تیل ، آلو، لہسن پیاز کی قیمتوں میں اضافہ کی رفتار ناقابل برداشت ہوگئی ہے ۔

وزیراعظم عمران خان جس اقتصادی بہتری کے دعوے کر رہے ہیں ، وہ اونچے درجے کی ایلیٹ کلاس کی خوشحالی ہے ۔ غریب ، متوسط طبقہ ، تنخواہ دار اور پنشنرز کے لیے زندگی گزارنا ناممکن ہوگیا ۔ مہنگی بجلی ، گیس ، تیل پیداواری لاگت میں اضافہ کا باعث ہے جس سے مہنگائی ، بے روزگاری بڑھ رہی ہے ۔

(جاری ہے)

افراط زر سے عوام کی قوت خرید ختم ہو گئی ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن قیادت کو عوام کی حالت زار سے کوئی سرکار نہیں ۔

جماعت اسلامی کی عوامی تحریک غریب ، مظلوم اور پسے ہوئے طبقہ کی آواز ہے ۔ لیاقت بلوچ نے آزاد جمو ں و کشمیر کے وفد سے ملاقات میں کہاکہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام بھارت کے غیر قانونی ، غیر اخلاقی ، غیر انسانی اور ناجائز قبضے کا شکار ہیں ۔ بھارت کا غاصبانہ قبضہ عالمی اداروں اور عالمی قیادت، خصوصاً عالم اسلام کی بے حسی کی وجہ سے ہے ۔ مسئلہ کشمیر ہندوستان اور پاکستا ن کے دو طرفہ معاملہ تک محدود نہیں ۔

مسئلہ کشمیر کا تنازعہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ اور اس کے اصل فریق ہیں ۔ دو طرفہ بات چیت پہلے بھی لاحاصل رہی اور اب بھی یہ لایعنی اور بے مقصد ہوگی ۔ہندوستان ، پاکستان اور کشمیری قیادت کے مابین سہ فریقی مذاکرات ہی مسئلہ کشمیر کا حل ہے ۔ کشمیری عوام اور قیادت کا اعتماد جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و سکون کا واحد ذریعہ ہے ۔ 22 کروڑ پاکستانی کشمیری عوام کے پشتی بان ہیں ۔ کشمیریوں کی لازوال قربانیوں نے نئی نسل کو صدموں اور خون سے جوان و توانا بنادیاہے ۔ آزادی کے لیے جس قوم کو موت سے کوئی خطرہ نہ رہے ، اسے غلام نہیں رکھا جاسکتا ۔ جماعت اسلامی حکومت پر متفقہ قومی کشمیر پالیسی کے لیے دبائوبڑھائے گی ۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments