پارلیمانی کمیٹی برائے کورونا کا وبا کی دوسری لہر کی وجہ سے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس نہ بلانے کا فیصلہ

کورونا کی دوسری لہر میں شدت آگئی ہے، عوام کو ایس او پیز پر عمل کرنا چاہیے اور کورونا سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں، این سی اوسی

بدھ نومبر 21:57

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 نومبر2020ء) پارلیمانی کمیٹی برائے کورونا نے وبا کی دوسری لہر کی وجہ سے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس نہ بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بدھ کو اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی برائے کورونا کا اجلاس ہوا جس میں اسد عمر، بابر اعوان، علی محمد خان اور دیگر ارکان شریک ہوئے جبکہ اپوزیشن کا کوئی بھی نمائندہ شریک نہ ہوا۔

کمیٹی نے مشاورت کے بعد سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس نہ بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو کورونا سے متعلق پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں شرکت کرنی چاہیے تھی، ہمیں کورونا صورتحال کو مدنظر رکھ کر متفقہ فیصلے کرنے چاہئیں، میں نے اپوزیشن سے خود رابطہ کیا اور اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی، اب اپوزیشن کے انکار کی وجہ وہ خود بتا سکتے ہیں، کچھ فیصلے قومی اہمیت کے ہوتے ہیں جن پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

(جاری ہے)

این سی او سی حکام کی جانب سے اجلاس کو کورونا سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ کورونا کی دوسری لہر میں شدت آگئی ہے، عوام کو ایس او پیز پر عمل کرنا چاہیے اور کورونا سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں۔اسد عمر نے کہا کہ اپوزیشن کے جلسوں سے کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے اور اپوزیشن عوام کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے، قومی قیادت کو اپنے طرز عمل کو بدلنا ہوگا، ہمیں لوگوں کو سمجھانا ہے ایس او پیز پر عملدرآمد کرنا ہے، کیونکہ دوسری لہر بہت خطرناک ہے اور بڑی تعداد میں لوگ اسپتالوں میں جا رہے ہیں جس سے روزگار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ سیاسی جلسے اور عوام کے اجتماعوں کو بند کروانا ہوگا، حکومت کو عوام کی صحت کا خیال کرنا چاہیے۔ وفاقی وزیر امین الحق نے تجویز دی ایسی صورتحال میں قومی اسمبلی اجلاس نہیں بلانا چاہیے۔ غوث بخش مہر نے کہا کہ پی ڈی ایم جلسوں میں عوام کو کہا جارہا ہے کہ آپ کو جنت کا ٹکٹ ملے گا، جب تک اپوزیشن قیادت سے بات نہیں کی جائے گی، کورونا کی صورتحال بہتر نہیں ہوگی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments