ٖقومی زرعی تحقیقاتی مرکز اسلام آباد میںرائس مکینیکل ٹرانسپلانٹرکا عملی مظاہرہ کی تقریب

حکومت پاکستان کی زیر نگرانی چاولوں کی کاشت کے جدید منصوبے شروع کرنے کا مقصد فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کر نا ہے،وزیراعظم کے معاون خصوصی جمشید اقبال چیمہ کا خطاب

منگل جون 00:12

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 جون2021ء) زراعت کو جدید بنانے اور پاکستان میں چاول کی فی ایکڑ پیداوار کو بڑھانے کے لئے ، پی اے آر سی نہ صرف نئے تیار شدہ چاول کے ٹرانسپلانٹرز متعارف کروا رہا ہے بلکہ مقامی کسانوں میں چاول کی مشینی کاشت کو ممکن بنا نے کے لئے ٹرانسپلانٹرزکی تقسیم و تربیت پر بھی کا م کر رہا ہے اس سلسلے میں قومی منصوبہ برائے منافع بخش دھان بذریعہ بڑھوتی پیداوا ر کے تحت "رائس مکینیکل ٹرانسپلانٹرکا عملی مظاہرہ" کی تقریب قومی زرعی تحقیقاتی مرکز اسلام آباد میں منعقد ہوئی ، جہاں مہمان خصوصی وزیر کے معاون خصوصی برائے غذائی تحفظ جمشید اقبال چیمہ تھے۔

نیز اس موقع پر چاول کے ساتھ مچھلیوں کی افزائش کے منصوبے کا بھی افتتاح کیا گیا۔

(جاری ہے)

معاون خصوصی وزیر اعظم جمشید اقبال چیمہ نے کہا کہ حکومت پاکستان کی زیر نگرانی چاولوں کی کاشت کے جدید منصوبے شروع کرنے کا مقصد فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کر نا ہے تا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کیا جا سکے بلکہ اضافی زرعی پیداوار بیر ون ملک برآمد کر کے اس سے بھاری اور قیمتی زر مبادلہ کا حصول بھی ممکن ہو سکے۔

ان منصوبہ جات کی بنائ پر چاول کی فی ایکڑ پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہو گا بلکہ چاول کی کوالٹی بھی بہتر ہو گی۔ اس وقت پاکستان میں چاول کی فی ایکڑ پیداوار دوسرے ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کاشتکاری مشینری اور بیجوں کی تقسیم پر 50فی صد سبسڈی فراہم کررہی ہے جس کا مقصد باسمتی کے لئے فی ایکڑ دھان کی پیداوار میں 10 ٹن اور نان باسمتی کے لئے 20 ٹن کا اضافہ کرنا ہے۔

یہ منصوبہ 3 صوبوں (پنجاب ، کے پی ، بلوچستان) میں شروع کیا گیا ہے۔ گذشتہ چاول کے سیزن کے دوران ہم نے 268 مشینیں ، نرسری بڑھانے والی مشینیں ، ڈی ایس آر مشقیں ، مولڈ بولڈ پلو اور نیپسک پاور اسپریئر تقسیم کیں اوکاشتکاروں کو 652ٹن چاول کی ترقی یافتہ اقسام کا بیج تقسیم کیا گیا جس سے ملک میں چاول کی پیداوار میں 7.4 سے 8.2ملین ٹن کا اضافہ ہوا ہے جو ایک قابل ذکر کامیابی ہے۔

اس موقع پر،چیئر مین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل ڈاکٹر محمد عظیم خان نے کہا کہ چاول کی کم پیداوار کی سب سے بڑی وجہ کھیتوں میں پودوں کی تعداد کا کم ہونا ہے جو دھان کی پنیری لگانے کیلئے مزدوروں کی کم یابی اور لاگت میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے پیداہوتی ہے ، مکینیکل ٹرانسپلانٹر کی کاشت سے دستی ٹرانسپلانٹ کے مقابلے میں کم وقت اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے ،علاوہ ازیں یہ یکساں وقفہ کاری اور بروقت پودے لگانے کو بھی یقینی بناتا ہے۔

مکینیکل ٹرانسپلانٹر کے ذریعے ایک دن میں ایک کھیت میں چاول کے 80ہزار سے ایک لاکھ 20ہزار تک پودے لگائے جا سکتے ہیں۔چیئر مین پی اے آرسی نے مزید کہا کہ "رائس کم فش کلچر" ٹیکنالوجی (چاول کے ساتھ مچھلیوں کی افزائش) کے پائلٹ پراجیکٹ کو شامل کر کے پی اے آرسی نے اپنے منصوبے کو ماہی گیری کے شعبے میں وسعت دی ہے۔ رائس فش کلچر میں ایک ہی زمین اور پانی کو دونوں کاموں کے لئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔چاول کی فصل میں چونکہ پانی ہر وقت کھڑا رہتا ہے لہذا قدرتی طور پر چاول کی فصل میں مچھلی کی افزائش انتہائی مناسب ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں دھان کے ساتھ مچھلیوں کی کامیاب افزائش کی جا رہی ہے اور اس طرح کسان چاول اور مچھلی ایک ساتھ کاشت سے اضافی آمدنی لے رہے ہیں۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments