ایچ آر سی کی سالانہ رپورٹ میں انسانی حقوق کی افسوسناک صورتحال سامنے آئی،نسرین اظہر

قومی کمیشن برائے حقوق نسواں جیسے اداروں کا پورا سال غیر فعال رہنا لمحہ فکریہ ہے،کوآرڈنیٹر چیپٹر

بدھ جون 23:36

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 جون2021ء) ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اسلام آباد چیپٹر کی کوارڈی نیٹر نسرین اظہر نے کہا ہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی) کی سالانہ رپورٹ 2020ء میں انسانی حقوق کی افسوسناک صورتحال سامنے آئی ہے، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور قومی کمیشن برائے حقوق نسواں جیسے اداروں کا پورا سال غیر فعال رہنا لمحہ فکریہ ہے، کورونا وباء پر قابو پانے کیلئے نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کا قیام بھی پارلیمان یا کابینہ کی منظوری کے بغیر کیا گیا، صدارتی حکم نامے باقاعدہ اور تواتر کے ساتھ ہوتے رہے، اظہار اور اجتماح کی آزادی بھی خطرات میں گھری رہی، پسے ہوئے طبقوں کیخلاف جرائم کا افسوسناک سلسلہ بلا روک و ٹوک جاری رہا۔

(جاری ہے)

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی سینئر راہنماء فرحت اللہ بابر ڈاکٹر نازش محمود اور ثانیہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نسرین اظہر کا کہنا تھا کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی) کی سالانہ رپورٹ 2020ء میں انسانی حقوق کی افسوسناک صورتحال سامنے آئی ہے، کورونا وبائپر قابو پانے کیلئے نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کا قیام بھی پارلیمان یا کابینہ کی منظوری کے بغیر کیا گیا، کورونا کی ابتدائ میں حکومت کا ردعمل غیر شفاف اور غیر موثر تھا اور سخت لاک ڈاون کی اشد ضرورت کے وقت اسکے اطلاق سے گریز کیا گیا، ہسپتالوں میں کیسز سے نمٹنے کی استعداد ہی نہیں تھی، صدارتی حکم نامے باقاعدہ اور تواتر کے ساتھ ہوتے رہے حکومت مسودہ قانون کو پارلیمان میں پیش کرنے اور اس پر مفصل بحث کرنے جیسے آئینی طریقہ کار سے انحراف کرتی رہی، انکا یہ بھی کہنا تھا کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور قومی کمیشن برائے حقوق نسواں جیسے اداروں کا پورا سال غیر فعال رہنا لمحہ فکریہ ہے تاہم مثبت بات یہ ہے کہ قومی اسمبلی نے انسانی حقوق کے کئی اہم قوانین منظور کئے جن میں زینب الرٹ بل، ریسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ اور معذوری کے شکار افراد کے حقوق کا آئی سی ٹی ایکٹ شامل ہیں، اس کے علاوہ وفاقی حکومت کے احساس پروگرام کے تحت مستحق لوگوں میں رقوم کی تقسیم بھی حوصلہ افزاء اقدام تھا، پسے ہوئے طبقوں جیسے کہ بچوں، عورتوں، اور مذہبی اقلیتوں کیخلاف جرائم کا افسوسناک سلسلہ بلا روک و ٹوک جاری رہا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments