رواں سیزن کے دوران چاول کی 9 ملین ٹن کی بھرپور اور ریکارڈ پیداوار حاصل ہوئی ہے، فخر امام

اس مرتبہ 11.5 ملین ٹن چاول کا ذخیرہ موجود ہوگا، مجموعی طور پر رواں سال کے دوران چاول کی برآمدات سے 4.75 بلین ڈالرز حاصل ہونے کے واضح امکانات ہیں،چینی کی قیمتیں چند افراد نے بڑھائی ہیں، کرشنگ کا عمل شروع ہونے کے بعد چینی کا ایشو نہیں رہے گا، وفاقی وزیر

منگل 30 نومبر 2021 00:18

رواں سیزن کے دوران چاول کی 9 ملین ٹن کی بھرپور اور ریکارڈ پیداوار حاصل ہوئی ہے، فخر امام
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 نومبر2021ء) وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے زرعی شعبہ میں اصلاحات اور سہولتوں کی فراہمی کے باعث رواں سیزن کے دوران چاول کی 9 ملین ٹن کی بھرپور اور ریکارڈ پیداوار حاصل ہوئی ہے، پاکستان کے پاس اس مرتبہ 11.5 ملین ٹن چاول کا ذخیرہ موجود ہوگا، مجموعی طور پر رواں سال کے دوران چاول کی برآمدات سے 4.75 بلین ڈالرز حاصل ہونے کے واضح امکانات ہیں، ہم نے تجویز دی ہے کہ وزیراعظم کی سربراہی میں قومی سطح پر نگرانی کے لئے ایک ایسی کمیٹی بنا ئی جائے تاکہ چاول کی برآمدات یقینی بنائی جا سکے، نومبر 2021 کے دوران کپاس کی 6.8 ملین گانٹھیں پیداوار آچکی ہے جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 4.1 ملین گانٹھیں تھیں، توقع ہے کہ کپاس کی 8.5 ملین گانٹھوں کا ہد ف حاصل ہو جائے گا ، رواں سال کے دوران گنے کی 87 ملین ٹن ریکارڈ پیداوار حاصل ہوگی۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی زرعی شعبے پر خصوصی توجہ دی اور کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بڑی فصلوں کی ریکارڈ پیداوار حاصل کی ہے، رواں سیزن کے دوران دھان کی 9 ملین ٹن ریکارڈ پیداوار حاصل ہوئی ہے جو گزشتہ سیزن کے دوران 8.4 ملین ٹن تھی، جس میں سے 31 سے 32 لاکھ ٹن برآمد کی گنجائش تھی جبکہ 34 لاکھ ٹن ہماری اپنی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سیزن کے دوران حاصل ہونے والی دھان سے 2.5 ملین ٹن بچی ہوئی ہے جبکہ رواں سال کی پیداوار کو ملا کر 11.5 ملین ٹن کا ذخیرہ ہمارے پاس موجود ہوگا، جس میں سے ہماری ضرورت 35 لاکھ ٹن تک ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال کے دوران چاول کی برآمدات سے وافر زرمبادلہ حاصل ہونے کے واضح امکانات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کی بچی ہوئی اور اس سال کی دھان برآمد کرنے میں کامیاب ہو گئے تو 4.75 بلین ڈالرز حاصل ہوں گے، ہم نے تجویز دی ہے کہ وزیراعظم کی سربراہی میں قومی سطح پر نگرانی کے لئے ایک ایسی کمیٹی بنائی جائے تاکہ چاول کی برآمدات یقینی بنائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت برآمدات میں اضافے کے لئے نئی منڈیوں کی تلاش کر رہی ہے، جس میں کافی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ پانچ سالوں کے دوران چین، کینیا، یو اے ای، افغانستان اور سعودی عرب کو چاول کی زیادہ برآمدات کر رہے ہیں، چاول کی ریکارڈ پیداوار حاصل ہونے کے بعد ہمار ے سفارتخانوں اور ہائی کمیشنز کو اس سلسلے میں آگے آنا ہوگا تاکہ چاول کی برآمدات بڑھائی جا سکیں، اس سلسلے میں لاطینی امریکہ اور افریقہ میں چاول کی برآمدات بڑھانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے کہاکہ چاول کی پیداوار بڑھانے پر ہم کاشتکاروں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں چاول، مکئی، گندم اور گنے کی ریکارڈ پیداوار حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سیزن میں کپاس کی ابھی تک 6.8 ملین گانٹھیں حاصل ہو چکی ہیں جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 4.1 ملین گھانٹھیں تھیں، توقع ہے کہ کپاس کی 8.5 ملین گانٹھیں پیداوار حاصل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زرعی شعبے کی ترقی اور بہتری کے لئے پرعزم ہے اور موثر حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر سید فخر امام نے کہا کہ چینی کی قیمتیں چند افراد نے بڑھائی ہیں، کرشنگ کا عمل شروع ہونے کے بعد چینی کا ایشو نہیں رہے گا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments