تھرکول منصوبہ کرپشن کیس:سپریم کورٹ نے کیس تحقیقات کیلئے نیب کو بھجو د دیا

تھر کے لوگ بنیادی سہولیات اور پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں،چئیرمین نیب رپورٹ کو دیکھیں کیا کرپشن اختیارات کا ناجائز استعمال کا کیس بنتا ہے، چیف جسٹس گلزار احمد کے ریمارکس ، سماعت تین ماہ تک ملتوی

منگل 30 نومبر 2021 22:48

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 30 نومبر2021ء) سپریم کورٹ نے تھرکول منصوبہ کرپشن کیس تحقیقات کیلئے نیب کو بھجواتے ہوئے قرار دیا ہے کہ چیئرمین نیب آڈیٹر جنرل رپورٹ کا جائزہ لیکر ابتدائی رپورٹ تین ماہ میں عدالت عظمیٰ میں پیش کریں۔معاملہ کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ تھر کے لوگ بنیادی سہولیات اور پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں،ٹھٹھہ، منوڑا اور سجاول کے حالات بھی اچھے نہیں،وزیراعلی سندھ سمیت کسی سرکاری عہدیدار کی معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں،سارا پیسہ ایک اکاونٹ سے نکل کر دوسرے میں چلا گیا اسی لیے دلچسپی نہیں،آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کی سفارشات اور نتائج کی روشنی میں سندھ حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا،آڈیٹر جنرل کی رپورٹ چئیرمین نیب کو بجھوا دیتے ہیں،چئیرمین نیب رپورٹ کو دیکھیں کیا کرپشن اختیارات کا ناجائز استعمال کا کیس بنتا ہے،رپورٹ کے مطابق ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کے فنڈ کا استعمال شفاف انداز میں نہیں ہوا،نہ آر او پلانٹ ضرورت کے مطابق قائم ہوئے نا ہی پینے کا صاف پانی دستیاب ہے،واٹر فلٹریشن پلانٹ کیلئیسولر پاور جنریشن پلانٹ بھی قائم نہ ہوسکے،موبائل ایمرجنسی ہیلتھ یونٹ کی سہولت بھی فراہم نہیں کی گئی،اسپیشل ترقیاتی پیکج کے فنڈ کا بھی غلط استعمال ہوا،سندھ حکومت نے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر کوئی ایکشن نہیں لیا،بظاہر ترقیاتی اور فلاحی فنڈز میں خورد برد اور بے ظابطگیاں، غلط استعمال ہوا،سندھ حکومت کو اس سارے معاملے کی کوئی پرواہ نہیں،بظاہر ترقیاتی فلاحی منصوبے فعال نہیں ہوئے۔

(جاری ہے)

عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر نیب کو تھرکول منصوبہ کے سرکاری فنڈز میں خردبرد میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملہ کی سماعت تین ماہ کیلئے ملتوی کر دی ہے۔۔۔۔توصیف

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments