شریف فیملی کے پاس رسیدیں اور کوئی ریکارڈ نہیں ، کبھی ویڈیو تو کبھی آڈیو اوراب بیان حلفی آگیا ہے، فرح حبیب

بیان حلفی بھی قطری خط، جعلی ٹرسٹ ڈیڈ اور فلیٹس ذرائع کی طرح ردی کی ٹوکری میں جائے گا، ملک بھر میں سٹیٹ لینڈ کی ڈیجٹلائزیشن کا عمل جاری ہے، سندھ حکومت ہر اچھے کام کی طرح سٹیٹ لینڈ کی ڈیجٹیلائزیشن میں بھی بالکل تعاون نہیں کر رہی، سروے کے مطابق پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان میں 81ہزار209 مربع کلومیٹر اراضی کی ڈیجیٹلائزیشن ہوچکی ہے،8لاکھ 24ہزار 210 ایکٹر اراضی پر قبضہ ہے،قبضہ شدہ سرکاری اور پرائیوٹ لینڈ کی مالیت 5500ارب بنتی ہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے اپنے ادوار میں ملکی خزانے کو بے دردی سے لوٹا ، سندھ حکومت کی نااہلی اور ذخیرہ اندوزوں کی پشت پناہی کے باعث سب سے زیادہ مہنگائی کراچی میں ہے، 13برس میں سندھ حکومت نے کوئی ایک بڑا کام کیا ہے تو سامنے لائے، وزیر مملکت کی میڈیا سے گفتگو

بدھ 1 دسمبر 2021 00:09

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 نومبر2021ء) وزیر مملکت اطلاعات فرخ حبیب نے کہاہے کہ شریف فیملی کے پاس رسیدیں اور کوئی ریکارڈ نہیں ، کبھی ویڈیو تو کبھی آڈیو اوراب بیان حلفی آگیا ہے، بیان حلفی بھی قطری خط، جعلی ٹرسٹ ڈیڈ اور فلیٹس ذرائع کی طرح ردی کی ٹوکری میں جائے گا، ملک بھر میں سٹیٹ لینڈ کی ڈیجٹلائزیشن کا عمل جاری ہے، سندھ حکومت ہر اچھے کام کی طرح سٹیٹ لینڈ کی ڈیجٹیلائزیشن میں بھی بالکل تعاون نہیں کر رہی، سروے کے مطابق پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان میں 81ہزار209 مربع کلومیٹر اراضی کی ڈیجیٹلائزیشن ہوچکی ہے،8لاکھ 24ہزار 210 ایکٹر اراضی پر قبضہ ہے،قبضہ شدہ سرکاری اور پرائیوٹ لینڈ کی مالیت 5500ارب بنتی ہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے اپنے ادوار میں ملکی خزانے کو بے دردی سے لوٹا ، سندھ حکومت کی نااہلی اور ذخیرہ اندوزوں کی پشت پناہی کے باعث سب سے زیادہ مہنگائی کراچی میں ہے، 13برس میں سندھ حکومت نے کوئی ایک بڑا کام کیا ہے تو سامنے لائے۔

(جاری ہے)

وہ منگل کو معاون خصوصی برائے سی ڈی اے علی نواز اعوان کے ہمراہ پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر مملکت اطلاعات ونشریات فرخ حبیب نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق سرکاری اور پرائیوٹ اراضی ریکارڈ کی اصلاحات تکمیل کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں ،ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کیڈسٹرل میپنگ کے ذریعے لینڈ کی ڈیجٹلائزیش سروے آف پاکستان کررہا ہے، ماضی میں ایک مساوی کو سکین کرکے کہا گیا کہ لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہوچکا ہے، یہ حقیقت کے برعکس تھا۔

انہوں نے کہا کہ لینڈ ڈیجیٹلائزیشن میں پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں نے مکمل تعاون کیا جس سے 88 فیصد لینڈ کی ڈیجٹلائزیش مکمل ہوچکی ہے، سندھ حکومت نے ہر اچھے کام کی طرح اس معاملے میں بھی تعاون نہیں کیا،سندھ حکومت نہیں چاہتی کہ سٹیٹ لینڈکاپتہ چلے کہ کتنی زمین پر قبضہ ہے، پیپلز پارٹی 13 سال سے سندھ میں حکومت کررہی، چائنہ کٹنگ، سرکاری اراضی پر ملی بھگت سے قبضے کروائے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ ریلوے کی 825ایکڑ ، سول ایوی ایشن کی 816ا یکڑ، متروکہ وقف املاک کی 117ارب اور این ایچ اے کی 52ارب روپے مالیت کی اراضی پر قبضے کی نشاندہی ہوئی ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ شمیم کا بیان حلفی بھی قطری خط، جعلی ٹرسٹ ڈیڈ اور فلیٹس کے ذرائع کی طرح ردی کی ٹوکری میں جائے گا، شریف فیملی کے پاس رسیدیں اور ریکارڈ نہیں ہے اسی لئے کبھی ویڈیو آتی ہے تو کبھی آڈیو اوراب یہ بیان حلفی آگیا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی ڈی اے علی نواز اعوان نے کہا کہ 52 ارب روپے مالیت کی حامل جنگلات کی 5200 کنال اراضی کو واگزار کرایاہے، 4 دسمبر کو ٹینتھ ایونیوکے کام کا آغاز ہو رہا ہے، لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2021 لائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سیاسی جماعتیں سرکاری زمینوں پر قابض ہو جاتی تھیں۔ ای الیون نالے پر قبضہ کیا اور سی ڈی اے سے این او سی لے کر بلڈنگز بنا دی گئیں جو گزشتہ بارشوں کے دوران سیلاب کاموجب بنا۔

ایک سال میں ہم نے میگاپراجیکٹس شروع کئے۔ شہر کی حالت کو بہتر کیا۔ بارہ کہو بائی پاس پراجیکٹ 18 ماہ کے اندر مکمل ہو جائے گا، برما برج، کیانی برج، منال برج اور پولی کلینک ہسپتال کی 200 بیڈز پر مشتمل ایکسٹینشن، بارہ کہو میں 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال بنایاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غازی بروتھا سے اسلام آباد کے رہائشیوں کے لئے پانی فراہم کیا جائے گا۔

راول ڈیم پر انٹرچینج بنا رہے ہیں جو جلد عوام کے لئے کھول دیاجائیگا۔ انہوں نے کہاکہ مارگلہ انڈر پاس پرتیزی سے کام جاری ہے جو اکتوبر میں فعال ہو جائے گا۔ پی ڈبلیو ڈی انڈر پاس عوام کے لئے کھل چکا ہے۔ کورنگ نالے کے اوپر پل زیر تعمیر ہے جس کے لئے کوشش کی جا رہی ہے کہ اگلے سال اکتوبر سے قبل مکمل کرلیاجائے۔ ای الیون میں 42 ہائی رسک عمارتوں کو سیل کردیا گیا ہے۔

کورنگ نالے کے اوپر ایک بڑے آپریشن سے تجاوزات کو ہٹایا گیا ہے۔ غوری ٹائون کو غیر قانونی تعمیرات پر ڈیڑھ ارب روپے کا جرمانہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ایسی سرکاری زمینوں پر کوآپریٹو سوسائٹی بناکرلوگوں کو بیچ دی گئی جن پر سکول، قبرستان،ہسپتال، پارکس بننے تھے۔ اب ان زمینوں کو واگزار کروا رہے ہیں جو رقم ان کی طرف واجب الادا ہے اس کو حاصل کررہے ہیں۔

ہم ایک لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2021 لائے ہیں جس کے تحت دیہات اور سیکٹر ایک ہی ریگولیٹر کے ماتحت ہوئے ہیں۔ اس سے قبل دیہی علاقے کو آئی سی ٹی اور سیکٹر ز کو سی ڈی اے دیکھ رہاتھا۔ ایک سال کے اندر اندر ہم نے اسلام آباد کی حالت بدل دی ہے اور ہم نے قبضہ مافیا سے زمین واگزار کرائی ہیں اور دوسری طرف ہم دارالحکومت کو اپ گریڈ بھی کررہے ہیں۔دریں اثناء بلاول زرداری کے خطاب پر ردعمل میں وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہاکہ خیبر پختونخوا کی تاریخ میں اگر کسی جماعت کا ناکام ترین جلسہ ہوا ہے تو وہ پیپلز پارٹی کا ہے،کاش بلاول آج سندھ میں 13سالہ اقتدار کی کارکردگی بھی پیش کر دیتے۔

وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہاکہ پنجاب میں 20کلو آٹے کا تھیلا 1100روپے میں جبکہ کراچی میں 1400روپے کا فروخت ہورہا ہے، سندھ میں اربوں کی گندم چوری کر لی جاتی ہے اور جب معاملہ اوپن ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ چوہے کھا گئے ہیں، کاغذوں میں سندھ میں اربوں روپے صحت اور تعلیم کے شعبے پرخرچ ہوئے لیکن آج بھی سندھ کے ہسپتالوں میں ایمبولینس نہیں ہیں، تعلیمی اداروں میں جانور باندھے ہوئے نظر آتے ہیں۔

وزیر مملکت نے کہاکہ سندھ کے عوام کو ٹینکر مافیا، گرانفروشوں اور لینڈ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑدیا گیا ہے،جعلی ڈومیسائل پر نوکریوں کا اعزاز بھی پیپلز پارٹی حکومت کو ہی حاصل ہے، گرین لائن،سندھ کے پسماندہ علاقوں کی ترقی، نالوں کی صفائی سمیت ہر بڑا کام وفاق حکومت کر رہی ہے، سندھ حکومت سوائے کرپشن کے کچھ نہیں کررہی۔ فرخ حبیب نے کہاکہ بلاول کی باتوں سے ثابت ہوچکا ہے کہ پیپلز پارٹی کا مقابلہ پی ڈی ایم کے ساتھ ہے،یہ آپس میں ہی لڑتے رہیں گے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں نے اپنے اپنے ادوار میں ملکی خزانے کو بے دردی سے لوٹا، بلاول کے ریکارڈ کی درستگی کے لئے بتانا چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی 7مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس گئی ہے،ہماری حکومت ماضی کے بے ہنگم قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی کے لئے بیرونی قرض لینے پر مجبور ہے، بلاول صاحب،واقعی ہی سندھ میں عوام کا جینا دوبھر ہوچکا ہے، سندھ کے عوام پیپلز پارٹی سے ہر صورت میں نجات چاہتی ہے۔

فرخ حبیب نے مزید کہاکہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ملک ترقی اور عوام خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہے،سوائے بلاول،شہباز کے سب جانتے ہیں،ماضی میں اووسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زرسے معیشت چلانے والے آج اووسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے خلاف کھڑے ہیں، پیپلز پارٹی کو بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے الگ الیکٹورل کالج کی تجویز اس وقت کیوں یاد نہیں آئی جب ان کی اپنی حکومت تھی، بلاول جلسوں میں شہدا کو سلام تو کرتے ہیں لیکن آج تک دہشت گردی کا شکار ہونے والے مسلح افواج، سیکورٹی فورسز کے شہدا کے گھرنہیں گئے۔

وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہاکہ 2018کے الیکشن میں عوام نے پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا اس کو پورا کرنے کے لئے دن رات کام کر رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان سابق فاٹا سمیت تمام پسماندہ علاقوں اور انکے عوام کو قومی دھارے میں لانے کے لئے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں، پیپلز پارٹی دور میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بھی کرپشن کا بازار گرم تھا۔ فرخ حبیب نے مزیدکہاکہ سماجی تحفظ کے لئے احساس پرگرام کے لئے رواں سال 260ارب مختص کیے گئے ہیں،احساس کے تحت 34پروگرام کامیابی سے چل رہے ہیں۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments