این سی او سی نے قرنطینہ کی مدت کم کردی

کووِڈ-19 کے شکار افراد میں علامات نہ ظاہر ہوں یا 24 گھنٹے تک بخار کے بغیر علامات ٹھیک ہورہی ہوں تو 5 روز کے لیے الگ تھلگ رہنا چاہیے

منگل 25 جنوری 2022 00:17

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جنوری2022ء) این سی او سی نے قرنطینہ کی مدت کم کردی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق این سی او سی نے کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے قرنطینہ کی مدت کو 24 گھنٹے تک بغیر دوا کے بخار نہ ہونے کی صورت میں 9 روز سے کم کر کے 5 روز کر دیا۔یہ فیصلہ امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کی جانب سے آئسولیشن کے لیے تجویز کردہ وقت کو کم کر کے 5 روز کرنے کے تقریباً ایک ماہ بعد کیا گیا۔

قرنطینہ کی مدت میں تبدیلی ان تحقیقات کی بنیاد پر کی گئی کہ سارس-کو-2 کی زیادہ تر منتقلی عام طور پر علامات ظاہر ہونے کے دو سے تین روز پہلے اور دو سے تین روز بعد تک ہوتی ہے۔ابتدائی طور پر پاکستان میں قرنطینہ کی تجویز کردہ مدت 14 روز تھی اور گزشتہ سال اسے کم کر کے 9 روز کر دیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

آئسولیشن کی مدت اور اسے ختم کرنے کی تجویز کرتے ہوئے نئی ہدایات تجویز کرتی ہیں کہ کووِڈ-19 کے شکار افراد میں اگر علامات نہ ظاہر ہوں یا (24 گھنٹے تک بخار کے بغیر) علامات ٹھیک ہورہی ہوں تو انہیں 5 روز کے لیے الگ تھلگ رہنا چاہیے۔

ہدایات میں کہا گیا کہ اس کے بعد سختی سے 5 روز تک ماسک پہننا چاہئے تاکہ آس پاس موجود لوگوں کو ان سے متاثر ہونے کا خطرہ کم سے کم کیا جائے،ان لوگوں کے لیے جن کا ٹیسٹ مثبت آئے بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں کو ویکسین نہیں لگی ہے یا یا انہیں ویکسین کی دوسری خوراک لیے 6 ماہ سے زیادہ ہو گئے اور ابھی تک بوسٹر خوراک نہیں لگی، انہیں 5 روز قرنطینہ اور اس کے بعد 5 روز کے لیے ماسک کا سختی سے استعمال کرنا چاہیے۔

ہدایات میں کہا گیا کہ اگر 5 روز کا قرنطینہ ممکن نہیں تو یہ ضروری ہے کہ متاثرہ شخص10 روز تک دوسروں کے آس پاس رہتے ہوئے ہر وقت اچھی طرح سے فٹ ہونے والا ماسک پہنے رہے،اسی طرح وہ افراد جنہوں نے بوسٹر شاٹ لگوالیا انہیں ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد قرنطینہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے تاہم 10 روز تک ماسک پہننا چاہیے۔ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے کہا کہ سی ڈی سی نے بھی قرنطینہ کی مدت کو کم کر کے پانچ دن کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے زیادہ تر طلبا اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے وکرز کو فائدہ ہوگا، مجھے یقین ہے کہ اومیکرون سے پھیلنے والی وبا کی پانچویں لہر مارچ کے مہینے میں کم ہو جائے گی اور اگر 100 فیصد آبادی کو ویکسین لگادی جائے تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں مستقبل میں کووِڈ 19 کی کوئی خطرناک شکل نہ ملے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments