قومی سلامتی پالیسی کو حتمی شکل دینے میں 7سال لگے ہیں، معیشت پاکستان کا نمبر ون مسئلہ ہے، معیدیوسف

جموں و کشمیر نئی پالیسی کا اھم جزو ہے، افغانستان میں بنکنگ کا نظام جب تک بحال نہیں ہو گا اس وقت تک افغانستان کی امداد ممکن نہیں،قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی خارجہ امور کو بریفنگ

جمعرات 27 جنوری 2022 23:55

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 27 جنوری2022ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے اجلاس میں معیدیوسف نے قومی سلامتی پالیسی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ قومی سلامتی پالیسی کو حتمی شکل دینے میں 7سال لگے ہیں جبکہ معیشت پاکستان کا نمبر ون مسئلہ ہے جو قومی سلامتی سے جڑا ہے،تعلیم کو بھی قومی سلامتی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہیشہریت کو دوبارہ لازمی مضمون بنانے کے لئے سفارشات دی گئی ہیں قومی سلامتی پالیسی کی توجہ جیو اکنامکس پر ہے جموں و کشمیر نئی پالیسی کا اھم جزو ہے ،افغان طالبان کی ایما پر تحریک طالبان سے بات چیت ہوئی ہے ایک ماہ کے لئے سیز فائر ہواتحریک طالبان نے ایک ماہ کے بعد سیزفائر ختم کر دیا ہے گذشتہ روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس کمیٹی کے چیرمین احسان اللہ ٹوانہ کی زیر صدارت ہوا،قومی سلامتی کے مشیرمعید یوسف کی قومی سلامتی پالیسی پر خارجہ امور کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ افغانستان کے لئے انسانی بنیادوں پر امداد کا سلسلہ جاری ہیپاکستان امریکہ ترکی قطر ایران اور جاپان سمیت مختلف ممالک امداد دے رہے ہیں جبکہ بھارت نے گندم اور ادویات پاکستان کے راستے بجھوانے کا اعلان کیا تھاہم نے بھارت کو پاکستان کے راستے سپلائی کی اجازت بھی دے دی ہے اس کے باوجود بھارت نے ابھی تک گندم نہیں بجھوائی گئی افغانستان میں بنکنگ کا نظام جب تک بحال نہیں ہو گا اس وقت تک افغانستان کی امداد ممکن نہیں ہیامریکہ نے افغانستان کے نو ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر منجمند کر رکھے ہیں قومی سلامتی پالیسی میں جنگ ہتھیاروں سے ہٹ کر عام آدمی کا سوچا گیا ہیمعیشت پاکستان کا نمبر ون مسئلہ ہے جو قومی سلامتی سے جڑا ہیجب کسی عالمی ادارے سے قرضہ لیتے ہیں تو قومی خود مختاری پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہیمعید یوسف نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ قومی سلامتی پالیسی کی توجہ جیو اکنامکس پر ہے جموں و کشمیر نئی پالیسی کا اھم جزو ہے ،گورننس کو ھم نے معاشی سلامتی پالیسی کا حصہ نہیں بنایاتعلیم کو بھی قومی سلامتی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہیشہریت کو دوبارہ لازمی مضمون بنانے کے لئے سفارشات دی گئی ہیں منظم جرائم، ہائبرڈ وار کے موضوعات کو سلامتی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہیفوڈ سیکیورٹی ملک کے لئے بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہیمعید یوسف نے مزید بتایا کہیہ خطے کی پہلی قومی سلامتی پالیسی ہے دو ہزار چودہ میں اس پالیسی پر کام شروع ہوا ہے اس پالیسی کو حتمی شکل دینے میں سات سال لگے 2019میں اس پالیسی پر ڈرافٹنگ کمیٹی دوبارہ بنائی گئی ہے سرتاج عزیر کی قیادت میں اس پالیسی پر کام کا آغاز ہواچھ دسمبر کو پارلیمنٹ کی مشترکہ پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی میں پیش کی ہے جب تک اس پالیسی کو پارلیمنٹ آن نہیں کرے گی اس وقت تک فعال نہیں ہوگی کیونکہ اس پالیسی کو قانونی کور حاصل نہیں ہوگا۔

(جاری ہے)

آنے والی حکومت اس پر نظر ثانی کر سکتی ہیمعید یوسف نے مزید بتایا کہ جب تک عملدرآمد نہیں ہوگا دستاویز رہے گی اس پالیسی کا بنیادی نقطہ عام آدمی کا تحفظ ہے معاشی سیکیورٹی پر زیادہ فوکس ہے معاشی خود مختاری کو بہت اہم ہے جب آپ قرض لینگے تو اس کے اثرات خارجہ پالیسی پر پڑتے ہیں پاکستان بیرونی قرضے ختم کرنا ضروری ہے جیو اکنامکس کا یہ ہر گز مطلب نہیں ہم جیو اسٹریٹیجک سے ہٹ گے معید یوسف نے مزید بتایا کہقومی سلامتی پالیسی کے خارجہ پالیسی حصے میں معاشی ترقی اور امن شامل ہیقومی سلامتی پالیسی دستاویز میں کوئی خاص چیز نہیں چھپائی گئی ہیں قومی سلامتی پالیسی دستاویز مختلف وزارتوں کے لیے تجویز کردہ اقدامات شامل ہیں ان اقدامات پر عمل درآمد کا لائحہ عمل شامل ہیتمام صوبوں کے وزرائ اعلی اور چیف سیکریٹریٹ سے ملاقات کرکے پالیسی عمل درآمد پر بات ہوگی قومی سلامتی پالیسیٴْ میں بہت سارے چیزیں بہت حساس ہیں ان کمیرہ ریفنگ کے لئے تیار ہوں میں نے ایک ادارے کو ان کیمرہ بریفنگ دی دوسرے دن وہ سارے میڈیا میں موجود تھی میری خواہش ہے کہ تمام سیادی جماعتیں اور فریق اس کی آنرشپ لیں قومی سلامتی پالیسی پر تمام فریقن کو بریفنگ دینے کے لئے تیار ہوں اس پر عملدر آمد کے لئے قومی اتفاق رائے ضروری ہے افغان طالبان کی ایما پر تحریک طالبان سے بات چیت ہوئی ہے ایک ماہ کے لئے سیز فائر ہواتحریک طالبان نے ایک ماہ کے بعد سیزفائر ختم کر دیا ہے جبکہ ٹی ٹی پی کے ایشو پر افغان طالبان میں کوئی ابہام نہیں ہیٹی ٹی پی دہائیوں سے افغان سرزمین استعمال کرتی آئی ہیٹی ٹی پی کا دہائیوں کا اثر راتوں رات ختم نہیں ہو گاپاک افغان سرحد کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان پالیسی لیول پر اتفاق رائے موجود ہیپاک افغان سرحد سے باڑھ ہٹانے کا عمل مقامی سطح کا ہیابھی وہاں نظام کی عملدراری کے مسائل ہیں جبکہ جو لوگ باڑھ ہٹانے میں ملوث ہیں وہ کابل کی مرکزی پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔

۔۔۔رضوان عباسی

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments