سپریم کورٹ ، 25 ویں آئینی ترمیم وفاق اور کے پی حکومت کو وفاق کی اکائیوں سے متعلق جواب جمع کرانے کا حکم،سماعت فروری تک ملتوی

جمعرات 27 جنوری 2022 23:55

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 27 جنوری2022ء) سپریم کورٹ نے 25 ویں آئینی ترمیم سے متعلق کیس کو سماعت کے موقع پر وفاق اور کے پی حکومت کو وفاق کی اکائیوں سے متعلق جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوے کیس کی سماعت فروری کے مہینے تک ملتوی کردی ہے۔معاملہ کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ اس کیس میں لارجر بنچ بنانے کا سوچ رہے ہیں،درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ فاٹا خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے بجائے الگ صوبہ بن سکتا تھا جبکہ فاٹا والوں کا کہنا ہے کہ وہ اب اقلیت ہیں تو اپنی آزادی انجوائے نہیں کر سکتے،فاٹا فیڈریشن کا حصہ تھا،فاٹا کا انضمام پارلیمنٹ نے کیا ہے جس کے پاس سپریم پاور ہے، فاٹا اگر فیڈریشن کا حصہ ہے تو پارلیمنٹ ان کے بارے میں ترمیم کا اختیار رکھتی ہے،سپریم کورٹ کے پاس آئینی ترمیم کو پرکھنے کا اختیار بہت محدود ہے، یہ 400 لوگ پارلیمنٹ کے نمائندے ہیں جن میں فاٹا سے بھی لوگ تھے،پاکستان کے آئین کی بنیاد جمہوریت پر ہے،عدالت کے سامنے اہم قانونی سوالات ہیں،لارجر بنچ بنانے کا سوچ رہے ہیں،دیکھنا ہے کہ یہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں،یہ کیس آئین سے متعلق ہے کہ دیکھنا ہے آئین کے مطابق وفاق کا ڈھانچہ کیا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دئیے کہ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی اکائیوں کی حثیت بدلی نہیں جا سکتی،آئین بنانے والوں نے وفاقی اکائیوں کو الگ اس لیے رکھا کہ ان کا الگ کلچر اور حیثیت برقرار رہے،اگر پنجاب کی ایڈمنسٹریشن کیلئے اس کے دو حصے کیے جا سکتے ہیں تو فاٹا کا انضمام کیوں نہیں ہو سکتا اگر پارلیمنٹ پنجاب کے دو صوبے بنانے کی منظوری دے تو کیا وہاں کے لوگوں کی منظوری چاہیے ہوگی عوام کی رائے لینا تو لازمی ہے آپ وفاق کی تعریف بتائیں،کیا پھر پورا پاکستان ایک یونٹ بن سکتا ہے۔

(جاری ہے)

وکیل درخواست گزار وسیم سجاد نے موقف اپنایا کہ آئین کے تحت فاٹا کے متعلق فیصلوں سے قبل جرگے کی رائے سننا ضروری ہے،وفاقی اکائیوں کا انضمام اور ان کی دو حصوں میں تقسیم الگ باتیں ہیں،فاٹا کے انضمام کے وقت وہاں کے لوگوں سے پوچھا نہیں گیا،پارلیمنٹ میں 400 لوگوں نے بیٹھ کر پچیسویں آئینی ترمیم کر کے ہزاروں لوگوں کا فیصلہ کر لیا۔وکیل درخواست گزار خواجہ حارث نے اس موقع پر دلائل دئیے کہ دیکھنا ہو گا کہ آئین کے کون سے بنیادی نقات ہیں جن میں ترمیم نہیں کی جا سکتی، اگر فاٹا وفاقی اکائی نہیں ہے تو پھر فاٹا کی وفاقی ساخت کیا ہی فاٹا نہ کسی صوبے کا حصہ تھا نہ اس کی صوبائی پارلیمنٹ میں نمائندگی تھی،ایک صوبے کے دو یا زائد انتظامی یونٹ بنانے کا طریقہ کار موجود ہے،فاٹا کے بھی ایک سے زائد حصے بنانا ممکن تھا۔

ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے بتایا کہ آرٹیکل 247 کے از خود یہ کہتا ہے کہ فاٹا قبائلی علاقہ نہ رہے،جب تبدیلی کی اجازت آئین دیتا ہے تو پھر اس تبدیلی پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا،وفاق کی اکائیوں کو جوڑا بھی جاسکتا ہے، پورا ملک ایک یونٹ نہیں بن سکتا مگر صوبوں کے مزید حصے ہو سکتے ہیں،جسٹس قاضی امین نے اس موقع پر کہا کیا سپریم کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ فیڈریشن کو کہے نیا صوبہ بنا لو بعد اذاں عدالت عظمیٰ نے وفاق اور کے پی حکومت کو وفاق کی اکائیوں سے متعلق جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہو? کیس کی سماعت فروری کے مہینے تک ملتوی کردی ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments