اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںحکومت سو فیصد مردم شماری کرانے جارہی ہے‘ مردم شماری کے نتائج کو عالمی ..

حکومت سو فیصد مردم شماری کرانے جارہی ہے‘ مردم شماری کے نتائج کو عالمی اداروں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا اس لئے عالمی معیار کا فارم استعمال کیا جائے گا جس میں معذور افراد کا خانہ بھی ہوگا

پارلیمانی سیکرٹری خزانہ رانا محمد افضل کا حکومتی رکن شائستہ پرویز کے توجہ دلائو نوٹس کا جواب , کے الیکٹرک کی طرف سے صارفین سے 62ارب روپے سے زائد کی وصولی کا وفاق کی جانب سے نوٹس لیا جائے گا‘ پہلے بھی صارفین کو 12ارب روپے کی واپسی کو یقینی بنا چکے ہیں، پارلیمانی سیکرٹری دفاع چوہدری جعفر اقبال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 فروری2017ء) پارلیمانی سیکرٹری خزانہ رانا محمد افضل نے کہا ہے کہ حکومت سو فیصد مردم شماری کرانے جارہی ہے‘ مردم شماری کے نتائج کو عالمی اداروں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا اس لئے عالمی معیار کا فارم استعمال کیا جائے گا جس میں معذور افراد کا خانہ بھی ہوگا جبکہ پارلیمانی سیکرٹری دفاع چوہدری جعفر اقبال نے اعلان کیا ہے کہ کراچی میں کے الیکٹرک کی طرف سے صارفین سے 62ارب روپے سے زائد کی وصولی کا وفاق کی جانب سے نوٹس لیا جائے گا‘ پہلے بھی صارفین کو 12ارب روپے کی واپسی کو یقینی بنا چکے ہیں۔

منگل کو قومی اسمبلی میں حکومتی رکن شائستہ پرویز کی طرف سے مردم شماری فارم میں معذور افراد سے متعلق کالم شامل نہ کرنے پر توجہ دلائو نوٹس پیش کیا اور کہا کہ مردم شماری کے فارم میں معذور افراد کو لازمی ڈالا جائے کیونکہ جتنی معذوری پاکستان میں ہے اگر اس کا ریکارڈ درست نہیں بنے گا تو مستقبل کے لئے معذوروں کی فلاح و بہبود کا پلان بھی کیسے بنے گا۔

(خبر جاری ہے)

توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری خزانہ رانا افضل نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے اس حوالے سے اہم فیصلہ کیا ہے اور حکومت سو فیصد مردم شماری کرانے جارہی ہے۔ مردم شماری کے لئے فوج کی خدمات لازمی درکار ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے نتائج کو عالمی اداروں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا اس لئے عالمی اداروں کی مشاورت کے مطابق فارم تیار کیا گیا ہے۔

فارم کے لئے جو 33آئٹم موجود ہیں ان میں معذوری کی وجہ اور معذوری کی نوعیت کو بھی دیکھا جائے گا۔ معذور افراد کی معذوری کی وجہ اور نوعیت کا ایک کالم بنایا گیا ہے جس سے ان لوگوں کی تعداد معلوم ہوجائے گی اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے بھی اقدامات ہونگے۔ بعد ازاں قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے اراکین شیخ صلاح الدین ‘ محمد مزمل قریشی ‘ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ‘ عبدالوسیم کے نیپرا کی جانب سے کراچی الیکٹرک کو بجلی کی قیمت میں پچیس پیسے فی یونٹ کی شرح سے اضافہ کرنے کی منظوری دینے اور کے ای کی جانب سے صارفین کی جانب سے 62ارب روپے کی زائد وصولی سے متعلق توجہ مبذول کروانے کے نوٹس پر بیان دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری دفاع چوہدری جعفر اقبال نے کہا کہ نیپرا کی جانب سے اس معاملے کا نوٹس لیا گیا ہے اور کے الیکٹرک نے نئے نرخوں کے لئے جو درخواست دی ہے وہ تاحال زیر سماعت ہے۔

وفاقی حکومت نے 2012 میں بھی کے الیکٹرک سے بارہ ارب روپے کی صارفین کو واپسی کو یقینی بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ضابطہ کار کے تحت کے الیکٹرک کو ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل اور نقصانات کے حوالے سے صارفین بلز پر ایڈجسٹمنٹ کا اختیار حاصل ہے تاہم نقصانات کے حوالے سے ایک شرح مقرر ہے اسی طرح ایندھن کی قیمتوں میں کمی بیشی پر بھی بجلی کی قیمت پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگر کے الیکٹرک نے اپنے خساروں کا بوجھ صارفین پر ڈالا ہے تو وفاقی حکومت ضرور اس کا نوٹس لے گی اور صارفین کو ان کا جائز حق واپس دلوائے گی۔ (ن غ / آ چ+ ا ع)

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں