اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںبھارتی کولڈ سٹارٹ حکمت عملی کے باوجود پاکستان اپنی خودمختاری کا دفاع ..

بھارتی کولڈ سٹارٹ حکمت عملی کے باوجود پاکستان اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ،بھارتی فوجی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں، بھارت پاکستان کی جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت کو نظر انداز نہ کرے، چینی تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر کا انٹرویو میں اظہار خیال

اسلام آباد/بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 فروری2017ء)چین کے معروف تھنک ٹینک سینٹر فار ایشیا پیسیفک سٹڈیز کے ڈائریکٹر چائو کان چھنگ نے کہا ہے کہ بھارت کے کولڈ سٹارٹ نظریہ کے باوجود جوہری طاقت پاکستان پر اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کی بھرپور طاقت رکھتا ہے اور ایسی صورتحال میں نئی دہلی کا یکطرفہ طور پرفتح حاصل کرنے کا نظریہ ناکام ہو جائے گا ۔

چائو کان چھنگ نے منگل کو چینی اخبار گلوبل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ چین میں بھارت پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار اس صورتحال میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف جنرل بیپن راوت کی جانب سے دیئے گئے اشتعال انگیز بیانات سے پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی پیدا ہوگی ، خاص طور پر ایسی غیر یقینی کی صورتحال میں کہ جب امریکہ میں ڈونلڈٹرمپ صدارتی عہدہ سنبھال چکے ہیں ۔

(خبر جاری ہے)

ایسی صورتحال میں بھارتی فوجی قیادت کی جانب سے ایسے بیانات دونوں ممالک کے مابین امن کی فضاء کو خراب کر سکتے ہیں جس سے پاکستان کی جانب سے بھی بلا شبہ ایک سخت ردعمل سامنے آئے گا ۔انہوں نے دونوں جنوبی ایشیائی ہمسایوں کے مابین امن عمل کی معطلی کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو یہ بات ذہن نشین کرنا ہوگی کہ اگرچہ دونوں ممالک کی افواج تعداد کے مابین ایک فرق ضرور موجود ہے تاہم پاکستان بھر پور طریقے سے اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔

پاکستان اور بھارت دونوں جوہری صلاحیت کے حامل ممالک ہیں ۔ بھارتی کولڈ سٹارٹ حکمت عملی کی موجودگی اور دونوں ممالک کی افواج کے مابین فرق کا یہ مطلب نہیں کہ بھارت پاکستان کے خلاف باآسانی فتح حاصل کر سکتا ہے ۔حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور اس کے جوہری ہتھیاروں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ۔انہوں نے مزید کہا پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات کے مابین امریکی کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی بھی اس حوالے سے باراک اوبامہ کی نسبت مختلف ہوگی ۔


اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں