اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریں سال 2014ء پاکستانی کھیلوں کیلئے غیر یقینی صورتحال کا سال رہا ،شارجہ ..

سال 2014ء پاکستانی کھیلوں کیلئے غیر یقینی صورتحال کا سال رہا ،شارجہ ٹیسٹ میں پاکستان کی تاریخی کامیابی سے شروع ہونے والا دو ہزار چودہ شارجہ میں ہی نیوزی لینڈ کے خلاف اس کی حیران کن اننگز کی شکست پر ختم ہوا

مصباح نے ابوظہبی میں ہی چھپن گیندوں پر سینچری بنا کر عظیم ویوین رچڑڈز کا تیز ترین ٹیسٹ سینچری کا اٹھائیس سالہ پرانا ریکارڈ بھی برابر کر دیا،یونس خان نے دبئی اور کپتان مصباح الحق نے ابوظہبی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنا کر پاکستان کو بیس برس بعد آسٹریلیا کے مقابل ٹیسٹ سیریز میں سرخرو کیا،ہاکی میں2014ء کا اختتام پاکستان نے ڈرامائی انداز میں ایشیئن گیمز اور چیمپئنز ٹرافی کے وکٹری اسٹینڈ پر کیا , فٹبال میں سال پاکستان نے بھارت کو بھارت میں بہتر گول اوسط کی بیناد پر دو میچوں کی سیریز میں شکست دی , اسنوکر میں سرکاری سرپرستی سے محروم پاکستان کے محمد سجاد، محمد یوسف اور محمد آصف کی کاکردگی نہ دوہرا سکے اور بنگلور میں ورلڈ ایمیچور اسنور چیمپئن شپ کا فائنل ہار گئے، , گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کوئی طلائی تمغہ نہ جیت سکا تاہم محمد وسیم نے باکسنگ، شاہ حسین نے جوڈو اور ریسلر قمر عباس نے چاندی کے تمغے جیت کر دستے کی لاج رکھ لی، , ایشیئن گیمز میں اکلوتا گولڈ میڈل پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کے مرہون منت رہا، دفاعی چیمپئن پاکستان کی اسکواش ٹیم نے ایشیئن گیمز کی تاریخ میں پہلی بارکوارٹر فائنل میں ہمت ہار دی جس کا نزلہ کوچ جمشید گل خان پر گرا اور انہیں برطرف کر دیا گیا

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔29دسمبر 2014ء )2014ء پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور پاکستان اسپورٹس بورڈ حکام کے تنازعہ کے باعث پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے غیر یقینیوں کا سال رہا اور اب اسی عالم میں ہی وہ دوہزار پندرہ میں بھی قدم رکھ رہے ہیں۔شارجہ ٹیسٹ میں پاکستان کی تاریخی کامیابی سے شروع ہونے والا دو ہزار چودہ شارجہ میں ہی نیوزی لینڈ کے خلاف اس کی حیران کن اننگز کی شکست پر ختم ہوا۔

اکتوبر میں آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کا بتیس برس بعد وائٹ واش کرنا ٹیم کی سال کی سب سے اعلیٰ کارکردگی تھی۔ یونس خان نے دبئی اور کپتان مصباح الحق نے ابوظہبی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنا کر پاکستان کو بیس برس بعد آسٹریلیا کے مقابل ٹیسٹ سیریز میں سرخرو کیا۔ مصباح نے ابوظہبی میں ہی چھپن گیندوں پر سینچری بنا کر عظیم ویوین رچڑڈز کا تیز ترین ٹیسٹ سینچری کا اٹھائیس سالہ پرانا ریکارڈ بھی برابر کر دیا۔

(خبر جاری ہے)

پاکستانی ٹیم نے اس سال دس ٹیسٹ کھیلے جن میں سے چار جیتے، چار ہی ہارے اور دو ہارجیت کا فیصلہ ہوئے بغیر ختم ہوئے۔ پاکستان امارات میں تینوں ہوم سیریز میں ناقابل شکست رہا تاہم سری لنکا کے جوابی دورے میں اسے دو صفر کی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔اسپنرز ذولفقار بابر اور یاسر شاہ نے چون وکٹیں لیکر سعید اجمل کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ پاکستانی بیٹسمینوں نے رواں برس دنیا میں سب سے زیادہ بائیس سینچریاں بنائیں۔

یونس خان چھ سینچریوں کی مدد سے بارہ سو تیرہ رنز بنا کر سال کے سب سے کامیاب پاکستانی بیٹسمیں ٹھہرے۔ مصباح نے چار جبکہ سرفراز احمد اور احمد شہزاد نے تین تین سینچریاں اسکور کیں۔ٹیسٹ کرکٹ کے برعکس ون ڈے میں پاکستان کا ستارہ اس سال گردش میں رہا اور ٹیم سال بھر کوئی سیریز نہ جیت سکی۔ پاکستان نے سولہ میں سے جو دس ایک روزہ میچ ہارے ان میں ایشیا کپ کا فائنل بھی شامل تھا۔

ون ڈے ٹیم سے ڈراپ کیے جانے پر یونس خان ہرزہ سرائی پر اتر آئے۔احمد شہزاد نے سال کا اختتام سب سے زیادہ چھ سو انتیس رنز اور شاہد آفریدی نے سولہ وکٹوں کے ساتھ کیا۔ ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں بھی پاکستانی ٹیم رواں برس پہلی بار عالمی کپ سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گئی۔ جس پر محمد حفیظ کو ٹوئنٹی ٹوئنٹی کی کپتانی سے ہاتھ دھونا پڑے۔ شاہد آفریدی حفیظ کی جگہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر ہوئے۔

کپتانی کی طرح چیئرمین پی سی بی کے عہدہ کے لیے بھی ذکاء اشرف اور نجم سیٹھی کے درمیان رسہ کشی اور جگ ہنسائی جنوری سے اگست تک جاری رہی اور پھر عدالتی مداخلت کے بعد سابق سفارتکار شہریار خان کو تین سال کے لیے بورڈ کی باگ ڈور سنبھالنا پڑی۔ہاکی میں دوہزار چودہ کا اختتام پاکستان نے ڈرامائی انداز میں ایشیئن گیمز اور چیمپئنز ٹرافی کے وکٹری اسٹینڈ پر کیا مگر یہ سال پہلی بار عالمی کپ سے باہر ہونے کی رسوائی اور دولت مشترکہ کھیلوں میں عدم شرکت کے حوالے سے ہمیشہ یاد رہے گا۔

بھارت کو چیمپئنز ٹرافی سیمی فائنل میں ہرانے کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں نے تماشائیوں کے سامنے سفارتی آداب کے منافی رویہ اپنایا جس پر کوچ شہناز شیخ کو معافی مانگنا پڑی۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن مالی معاملات کی بابت حکومت کا کھویا ہوا اعتماداس سال بھی حاصل نہ کرسکی۔فٹبال میں اس سال پاکستان نے بھارت کو بھارت میں بہتر گول اوسط کی بیناد پر دو میچوں کی سیریز میں شکست دی۔

تاہم تیسرے النقبہ انٹرنینشل کپ میں میزبان فلسطین اور اردن کے ہاتھوں شکست نے پاکستان کو پہلے راوٴنڈ سے آگے نہ بڑھنے دیا۔ چیمپئن شپ کے دوران پاکستانی ٹیم اپنے بحرینی کوچ محمد شلمان کی خدمات سے محروم رہی جنہیں اسرائیلی حکام نے فلسطین میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ پاکستان کی عالمی رینکنگ جو مئی میں ایک سو انسٹھ ہو گئی تھی دسمبر میں مزید گر کرایک سو اٹھاسی ہو گئی۔

اسنوکر میں سرکاری سرپرستی سے محروم پاکستان کے محمد سجاد، محمد یوسف اور محمد آصف کی کاکردگی نہ دوہرا سکے اور بنگلور میں ورلڈ ایمیچور اسنور چیمپئن شپ کا فائنل ہار گئے۔جولائی میں گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کوئی طلائی تمغہ نہ جیت سکا تاہم محمد وسیم نے باکسنگ، شاہ حسین نے جوڈو اور ریسلر قمر عباس نے چاندی کے تمغے جیت کر دستے کی لاج رکھ لی۔ایشیئن گیمز میں اکلوتا گولڈ میڈل پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کے مرہون منت رہا۔ دفاعی چیمپئن پاکستان کی اسکواش ٹیم نے ایشیئن گیمز کی تاریخ میں پہلی بارکوارٹر فائنل میں ہمت ہار دی جس کا نزلہ کوچ جمشید گل خان پر گرا اور انہیں برطرف کر دیا گیا۔


اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں