جیکب آباد کی جمس ہسپتال میں ایک اور بد انتظامی،ایمرجنسی میں لائی گئی خاتون کی زچگی کے بجائے جمس عملے نے الٹرا ساؤنڈ کے لئے واپس بھیج دیا،خاتون نے رکشہ پر بچے کو جنم دیا بچہ فوت

ہفتہ 25 ستمبر 2021 16:19

جیکب آباد کی جمس ہسپتال میں ایک اور بد انتظامی،ایمرجنسی میں لائی گئی ..
جیکب آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ ۔ 25 ستمبر2021ء،نمائندہ خصوصی،عبدالرحمن آفریدی) جیکب آباد کی جمس ہسپتال میں بد انتظامی کا ایک اور واقع سامنے آیا ہے گزشتہ شب جیکب آبا دکے قصبہ میر پور برڑو سے ایمرجنسی میں رکشہ پر دیہاتی خاتون پرویزاں برڑو کو رکشہ پر جمس ہسپتال لایا گیا جہاں موجود عملے نے خاتون کی زچگی کے بجائے الٹرا ساؤنڈ کرواکر لانے کے لئے کہا اور واپس کر دیا خاتوں کو الٹراساؤنڈ کے لئے لیجایا جا رہا تھا ہے رکشہ پر ہی خاتون کی زچگی ہو گئی اور خاتون نے بچے کو جنم دیا جو بعد میں فوت ہو گیا جس پر سٹی فورم کے چیئر مین حماد اللہ انصاری نے افسوس کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ جمس ہسپتال میں انتظامیہ کی نااہلی اور بدترین کرپشن کی وجہ سے علاقے کے لوگ علاج کی سہولت سے محروم ہیں جمس ہسپتال میں ایک ہفتے میں یہ دوسرا واقع ہے جس میں خاتون نے رکشہ پر زچگی کی ہے اس سے پہلے جمس ہسپتال میں خاتون نے کار میں بچے کو جنم دیا تھا،میر پور برڑو کے رہائشی غریب خاندان جب زچگی کے لیے جمس اسپتال آیا تو انتظامیہ نے ڈلیوری کرنے سے انکار کردیا جس پر مظلوم عورت نے رکشے پر ہی بچے کو جنم دیا اور نومولود بچہ فوت ہوگیا، ہم سمجھتے ہیں کہ اس بچے کو قتل کیا گیا ہے اور اس قتل میں جمس انتظامیہ ملوث ہے، جبکہ گذشتہ روز بھی ایک خاتون نے جمس اسپتال کے احاطے میں گاڑی کے اندر بچے کو جنم دیا تھا جس پر جمس انتظامیہ نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ جمس انتظامیہ کو بلیک میل کیا جارہا ہے جمس انتظامیہ کو شرم آنی چاہئے وہ اسپتال کو فعال کرنے کے بجائے اپنی کوتاہی، کرپشن اور نااہلی کو چھپانے کے لیے حقائق پر مبنی خبریں شائع کرنے والے صحافیوں کو بلیک میلر کہ رہے ہے، آج رکشے پر ڈلیوری کرنے والی یہ خاتون اور اس کا فوت ہونے والا بچہ جیکب آباد کی عوام سے سوال کررہا ہے کہ وہ کیوں اس ظلم پر خاموش ہیں آخر کب تک یہ ظلم برادشت کریں گے، ہم تمام سیاسی، سماجی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جمس جیسے بہترین ادارے کو بچانے کے لیے آگے آئیں اور ملکر جدوجہد کریں تاکہ اس طرح کے واقعات کو روکا جاسکے۔

جیکب آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments