موجودہ حکومت عوام اور لیبر کو ریلیف دینے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے،مشتاق احمد مستوئی

پیر ستمبر 23:19

ٴاوستہ محمد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 14 ستمبر2020ء) مستری مزدور یونین اوستہ محمد کے سربراہ مشتاق احمد مستوئی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت عوام اور لیبر کو ریلیف دینے میں مکمل ناکام ہو چکی ہیں اور موجودہ ضلعی انتظامیہ کی نالائقی کی وجہ سے اوستہ محمد شہر میں مہنگائی عروج پر پہنچ چکا ہیں شہر میں پرائس کنٹرول کمیٹی کا نام ونشان تک نہیں منافع خور فروٹ فروش اور سبزی والے منہ مانگ رقم وصول کررہے ہیں ۔

(جاری ہے)

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ گوشت چھوٹا ہو یا بڑا لیکن ان کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگے ہیں سب کچھ غریب کے پہنچ سے باہر ہیں اب لیبر سبزی بھی خرید نہیں سکتا ہیں ہر چیز روزہ مرہ کے منہ مانگے فروخت ہورہے ہیں لیکن ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہیں جس کی وجہ سے منافع خور اور ریڑھی والے اپنے من پسند ریٹ مقرر کرکے عوام اور شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں تحصیل اور ضلعی انتظامیہ مہنگائی کے روک تھام میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں ور انتضامیہ خوب خرگوش ہو کر بیٹھے ہیں انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے غریب اور اور مزدور لیبر کا جینا دوبھر کردیا ہیں شہر کو منافع خوروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہیں انہوں نے کہا کہ پرائس کنٹرول کمیٹی کی غیر فعال ہونے کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان کھڑا ہوا ہیں جس سے غریب عوام اور مزدور طبقہ سبزی ان کے قوت خرید سے باہر ہوگیا ہیں جس وجہ سے مزدوروں کے گھروں کی چولہے بھی ٹھنڈی ہو کر رہ گئی ہیں انہوں نے کہا کہ شہر کے ہر چوک پر منافع خوروں کی اپنی من پسند ریٹ مقرر کرکے عوام کو لوٹ رہے ہیں اس سلسلے میں انتظامیہ منافع خوروں کیخلاف کاروائی کرنے کے بجائے ان کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں جس کی وجہ سے منافع خور اپنے من پسند قیمت مقرر کر کے غریب عوام اور مزدور طبقہ کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں انہوں نے وزیراعلی بلوچستان چیف سیکرٹری بلوچستان کمشنر نصیرآباد ڈویژن سے مطالبہ کیا کہ اوستہ محمد میں روزمرہ کے ایشا سبزی فروٹ اور گوشت کے قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کا نوٹس لیا جائے اور منافع خوروں کے خلاف فوری کاروائی کرکے عوام کو ریلیف دیا جائے اور پرائس کنٹرول کمیٹی کو فعال کرکے عوام کو مہنگائی سے نجات دلائی جائے ورنہ مستری مزدور یونین مہنگائی اور انتظامیہ کے خلاف احتجاج پرمجبور ہو جائیں گے۔

جعفر آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments