صوبے میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں ،مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کا برا حال کردیا ہے ، میر عبد الر ئوف مینگل

عوام کی فلاح و بہبود کی طرف توجہ دینے کے بجائے لوٹ مار میں مصروف ہیں ، صوبائی حکومت غیر منتخب لوگوں کو ترقیاتی اسکیمات کے نام پر کروڑوں روپے سیاسی رشوت دے رہی ہیں بی این پی صوبے کے مفاد میں بہتر فیصلے کر رہی ہے،مرکزی رہنما بلوچستان نیشنل پارٹی

منگل ستمبر 18:34

جعفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 ستمبر2020ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سابق رکن قومی اسمبلی عبدالرؤف مینگل نے کہا ہے کہ صوبے میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں ،عوام کی فلاح و بہبود کی طرف توجہ دینے کے بجائے لوٹ مار میں مصروف ہیں مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کا برا حال کردیا ہے صوبائی حکومت غیر منتخب لوگوں کو ترقیاتی اسکیمات کے نام پر کروڑوں روپے سیاسی رشوت دے رہی ہیں بی این پی صوبے کے مفاد میں بہتر فیصلے کر رہی ہے ہمارے نزدیک بلوچ قوم کے مفادات اہم ہیں اقتدار ہماری منزل نہیں حقوق کا حصول ہماری سیاست کا محور ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جعفر آباد سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہنمااس انعام دیکھو ساس سے ملاقات میں بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی بلوچستان اور اس کی کابینہ صوبے کے معاملات چلانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے صوبے میں گڈ گورننس کے بجائے بیڈگورننس ہے جس کی وجہ سے صوبے کے عوام میں مایوسی پھیلتی جا رہی ہے بے روزگاری کے باعث لاکھوں نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لئے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں حکومت سرکاری نوکریوں سمیت روزگار کے دیگر مواقع فراہم کرنے میں بھی ناکام ہوئی ہے صوبائی حکومت عوام کی دولت کا بے دریغ استعمال کرکے قومی خزانے کو نہ قابل تلافی نقصان پہنچا رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں بی این پی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور عوامی پذیرائی سے خوفزدہ ہوکر غیر منتخب لوگوں میں کروڑوں روپے بطور رشوت میاں کی جارہی ہیں ان کا کہنا تھا کہ سونا اور اگلتی بلوچستان کی سر زمین کے وارث نان شبینہ کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے لیکن اس خطرناک صورتحال کے باوجود صوبائی حکومت ہر چیز ٹھیک کا راگ الانپ رہی ہے۔

جعفر آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments