اُردو پوائنٹ پاکستان جھنگجھنگ کی خبریںآزاد امیدوار،مسلم لیگ ن یا تحریک انصاف ،سروے نے سیاسی پنڈتوں کو حیران ..

آزاد امیدوار،مسلم لیگ ن یا تحریک انصاف ،سروے نے سیاسی پنڈتوں کو حیران کردیا

جھنگ کے 3 حلقوں میں سے 2 میں آزاد امیدواروں کا سکہ چلے گا جبکہ ایک حلقہ پاکستان تحریک انصاف کے نام رہنے کا امکان ہے

جھنگ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17 جولائی2018ء) :آزاد امیدوار،مسلم لیگ ن یا تحریک انصاف ،سروے نے سیاسی پنڈتوں کو حیران کردیا
جھنگ کے 3 حلقوں میں سے 2 میں آزاد امیدواروں کا سکہ چلے گا جبکہ ایک حلقہ پاکستان تحریک انصاف کے نام رہنے کا امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں اس وقت ہر جگہ الیکشن کے چرچے ہیں۔ایک جانب عوام الیکشن 2018 کے انتخابات پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں تو دوسری جانب سیاسی پنڈت بھی اس الیکشن کو پاکستان کی پارلیمانی سیاست کا اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مسلسل تیسری مرتبہ انتقال اقتدار کا مرحلہ جمہوری طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے۔الیکشن تو 25 جولائی کو ہی انعقاد پذیر ہوں گے مگر انتخابی معرکے کا زور کس کے سر رہے گا اس پر چہ میگوئیاں ابھی سے شروع ہو چکی ہیں۔

(خبر جاری ہے)

ہر سیاسی پہلوان اپنے مخالف کو سیاسی میدان میں شکست دینے کے لیے بیتاب ہوچکا ہے۔

اس حوالے سے مختلف حلقوں میں سروے بھی کروائے جارہے ہیں۔اہم ترین حلقوں میں ہونے والے سروے انتخابات کے نتائج کے حوالے سے ایک عمومی اندازہ بھی پیش کررہے ہیں جس سے صورتحال واضح ہو رہی ہے کہ کس علاقے میں کس امیدوار کی سیاسی ساکھ زیادہ تگڑی ہے۔اس حوالے سے جھنگ میں کیا صورتحال ہے وہ بھی کچھ کچھ واضح ہوتی جارہی ہے۔جھنگ پنجاب کا اہم سیاسی شہر ہے جہاں مذہبی بنیادوں پر سیاست ہوتی ہے۔

اس مرتبہ بھی کچھ ایسا ہی دیکھنے کو مل رہا ہے جھنگ قومی اسمبلی کے 3حلقوں پر مشتمل ہے۔قومی اسمبلی کے تین حلقے این اے 114,این اے 115اور این اے 116 شامل ہیں ۔نجی ٹی وی کے سروے کے مطابق این اے 114 کے حلقے میں پاکستان تحریک انصاف کے محبوب سلطان عوامی مقبولیت میں اب تک آگے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے فیصل صالح حیات دوسرے نمبر پر ہیں اسی طرح این اے 115 آزاد امیدوار اور مسلم ۔

لیگ ن کے سابق رکن اسمبلی شیخ وقاص آگے ہیں جبکہ احمد لدھیانوی دوسرے نمبر پر موجود ہے ۔اسی طرح این اے 116 میں آزاد امیدوار آصف معاویہ پہلے جبکہ بی بی صائمہ اختر بھروانہ جن کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے عوامی مقبولیت میں دوسرے نمبر پر ہیں۔یاد رہے کہ اس شہر سے مسلم لیگ ن کا صفایا ہو چکا ہے اور اس انتخابات میں کسی نے بھی جھنگ سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے لیے درخواست نہیں دی تھی یہاں تک کہ مسلم لیگ ن نے بغیر پوچھے شیخ وقاص کو ٹکٹ جاری کیا تھا تاہم انہوں نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے سے انکار کر دیا گیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

جھنگ شہر کی مزید خبریں