انسداد پولیو کی قومی مہم 21 ستمبر 2020سے جاری ہوگی،ڈپٹی کمشنر محمد طاہرو ٹو

ہفتہ ستمبر 21:18

جھنگ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 ستمبر2020ء) ڈپٹی کمشنر محمد طاہرو ٹونے کہا ہے کہ آئندہ انسداد پولیو کی قومی مہم 21 ستمبر 2020سے جاری ہوگی ۔ مہم کے تمام امورکی کڑی نگرانی کی جائیگی تاہم مہم کے تمام مراحل تربیت یافتہ سٹاف کے ذریعے مکمل کئے جائیں اورمحکمانہ طے شدہ طریقہ کار پر مکمل طور پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے جبکہ علمائے کرام اس قومی مہم میں انتظامیہ کا بھرپور ساتھ دیں اور اپنے خطبات میں عوام کو اس بارے آگاہ کریں۔

یہ بات انہوں نے انسدادپولیو مہم کے حوالہ سے محکمہ صحت کی جانب سے کئے گئے انتظامات بارے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ڈاکٹر سید ارتضیٰ الحسنین شاہ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر صفدر نوید ،ڈی ایچ اوز، ڈپٹی ڈی ایچ اوز،یونین کونسل میڈیکل آ فیسرز، میڈیکل آفیسرز،سپروائزرز سمیت محکمہ زراعت، اوقاف، انفارمیشن اورپاپولیشن کے علاوہ دیگر متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر صفدر نویدنے انسداد پولیو مہم کے آئندہ رائونڈ کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ اس نیشنل کاز کیلئے مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کی4لاکھ99ہزار8سوسے زائد بچوں کو پولیو و یکسین پلائی جائیگی تاہم 85یونین کونسل کیلئے 85یوسی ایم اوزاور 224ایریا انچارج کی ڈیوٹیاں تفویض کی گئی ہیں جبکہ مجموعی طورپر 1155موبائل، ٹرانزٹ اور فکسڈ ٹیمیں ڈیوٹیاں سرانجام دیں گی۔

ڈپٹی کمشنر محمد طاہر وٹو نے محکمہ صحت کے افسران سے کہا کہ ضروری انتظامات کو فوری حتمی شکل دی جائے اور کسی قسم کی کوئی خامی باقی نہیں رہنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مہم کی مکمل مانیٹرنگ کی جائے گی اور غیر ذمہ داری کی کوئی گنجائش نہیں۔انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر زکو ہدایت کی کہ وہ پولیو مہم کے دوران انتظامات کو چوکس رکھیں اورقبل ازوقت تمام تر کمی کو دور کرائیں تاکہ مہم کے دوران کوئی دقت نہ ہو۔ڈپٹی کمشنرنے مزید کہا کہ حکومت پولیو کے یکسرخاتمہ کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔مہم کے دوران والدین پولیو ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں اور اپنے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کوعمر بھر کی معذوری سے بچانے کیلئے انسداد پولیو ویکسین کے دو قطرے مہم کے دوران ضرور پلوائیں۔

متعلقہ عنوان :

جھنگ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments