ٓجھنگ ، تھانہ قادر پور کی چوکی نبردشہید کے اہلکار پنجاب میں منشیات پھیلانے میں ملوث نکلے

علاقہ غیر سے منشیات بلو پتن کے راستے پولیس کی ملی بھگت سے کوٹ عیسیٰ شاہ بھیجی جاتی ہے جہاں سے جھنگ، سرگودھا اور فیصل آباد سمیت پنجاب بھر میں پہنچائی جاتی ہے

منگل دسمبر 18:53

جھنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 01 دسمبر2020ء) تھانہ قادر پور کی پولیس چوکی ’’نبرد شہید‘‘ ہیروئن ، چرس اور شراب فروشی کا گڑھ بن گئی ، چوکی کے ارد گرد منشیات کادھندہ عروج پر ہے جبکہ علاقہ غیر سے منشیات پنجاب کے دیگر شہروں تک پہنچانے میں چوکی کے پولیس اہلکار ہیروئن فروش کے ساتھی بن گئے ہیں ۔ڈی پی او جھنگ سرفراز ورک کے نوٹسز میں آنے کے باوجود اس ناجائز کاروبار کا خاتمہ نہ ہو سکا ہے ، علاقے میں منشیات کی کھلے عام فروخت سے علاقے کے نوجوان نشئی بننے لگے ۔

تفصیلات کے مطابق علاقہ غیر سے روزانہ کی بنیاد پر ہیروئن، چرس ودیگر نشہ آور اشیاء دریائے جہلم کے پتن بلو سے پنجاب میں فراہم کی جارہی ہیں ، علاقے غیر سے نارکوٹکس بھاری تعداد میں دریائے جہلم کے مغربی کنارے بلو شہر میں پہنچائی جاتی ہے جبکہ بعد میں دریائے جہلم پر قائم بلو پتن سے منشیات بھاری تعداد میں دریا عبور کرکے کوٹ عیسیٰ شاہ اور ارد گرد دیہاتوں میں اس کاروبار سے منسلک افراد تک پہنچائی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

نبرد شہید چوکی کا آفس کوٹ عیسیٰ شاہ میں موجود ہے جو اس علاقے میں مبینہ ہیروئن ، چرس ، دیسی شراب کی فروخت کا اہم گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یہ یہاں اس راستے سے جھنگ ، سرگودھا ، فیصل آباد وغیرہ تک منشیات سپلائی جاتی ہے اور یہ تمام کام مقامی پولیس کی وساطت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔چوکی نبرد شہید کے اہلکار بلو پتن کے ذریعے ٹرانسپورٹ ہونیوالی منشیات سے مکمل بے خبر ہیں کیونکہ ان جگہ پر انہوں نے کبھی چھاپہ نہیں مارا ۔

چوکی نبرد شہید پولیس نے چند ماہ قبل نشہ میں دھت نوجوانوں کو گرفتار بھی کیا تھا لیکن رشوت لے کر ان کو چھوڑ دیا گیا ۔اب ڈی پی او سرفراز ورک پر منحصر ہے کہ وہ اس نارکوٹکس کے دھندہ میں ملوث اہلکاروں سے کس طرح نبردد آزما ہوتے ہیں ۔کیونکہ تھانہ قادر پور میں تمام پولیس اہلکار سیاسی سفارش پر تعینات کیے جاتے ہیں ۔منشیات کے اس دھندہ سے پردہ اٹھانے والے تمام مقامی باشندوں کو سخت نتائج کی دھمکیاں دے کر خاموش کردیا جاتا ہے اور یہ دھمکیاں چوکی میں تعینات اہلکارتے ہیں جو منشیات سمگلروں کے ساتھی بن چکے ہیں۔

جھنگ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments