جہلم، ڈینگی جان لیوا مگر قابل علاج مرض ہے، ڈاکٹر فاروق احمد

اتوار ستمبر 19:20

جہلم ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 15 ستمبر2019ء) ڈینگی جان لیوا مگر قابل علاج مرض ہے ، میڈیا کے زریعے شہریوں میں شعور بیدار کرکے بیماری پر قابو پایا جاسکتا ہے ،ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق احمد بنگش نے جہلم پریس کلب کے نمائندہ وفد سے خصوصی گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی مچھر پانی کے جہاز اور ٹرینوں سے ایک سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں، ڈینگی وائرس پھیلانے والی مادہ مچھر 22ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں انڈے نہیں دیتی جس کی وجہ سے ان مچھروں کی افزائش کا عمل رک جاتا ہے، تاہم ان مچھروں کے دیے جانے والے انڈے محفوظ رہتے ہیں اور اپنی نسل کی افزائش کے لیے بہترین موسم کا انتظار کرتے ہیں، اگست سے دسمبر تک ان مچھروں کے انڈوں سے تیزی سے افزائش ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

تاہم سردموسم میں ان کی افزائش نسل رک جاتی ہے، ڈینگی وائرس کا سبب بننے والی مادہ مچھر کو اپنے انڈے دینے کے لیے پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے، مادہ مچھر پروٹین کی تلاش میں انڈے کے مقام سے 25 سے 30 کلومیٹر دور پالتوجانوروں، بھینسوں کے باڑوں میں جانوروں کو کاٹ کر اپنی غذا اور پروٹین کو حاصل کرتی ہے، تاہم جانور نہ ملنے کی صورت میں مادہ مچھر انسانوں کو کاٹتی ہے تو اپنے ڈنگ سے 8سے 10 سیکنڈ کے لیے اس جگہ کو سن کر دیتی ہے اور اس دوران اس کے سیلیویا میں پیرا سائیٹ کو منتقل کر دیتی ہے جو انسانی جسم میں 2 سی7 دن تک کی سائیکل مکمل کر لیتا ہے، انسانی قوت مدافعت کمزور ہونے سے جگر بھی متاثر ہوتا ہے۔

پاکستان میں 1994 ء میں پہلی مرتبہ ڈینگی سے متاثرہ افراد سامنے آئے ، تاہم یہ وائرس سب سے پہلے فلپائن اور تھائی لینڈ میں پایا گیا تھا، جو بعدازاں لاطینی امریکہ سے مصر میں منتقل ہو گیا۔ ڈینگی وائرس کی 1950ء میں پہلی بار ایشیائی ممالک میں تشخیص کی گئی تھی، یہ وائرس سب سے پہلے فلپائن اور تھائی لینڈ میں پایا گیا تھا جس کے بعد ڈینگی وائرس تیزی سے بھارت، پاکستان، افریقہ،مشرق و سطی، جنوب مشرق ایشیا اور ویسٹرن پیسفک کے 100 سے زائد ممالک میں پھیل گیا۔شہریوں کے چاہیے کہ ڈینگی کی تشخیص ہونے پر بروقت اپنے قریبی ہسپتال سے رجوع کریںاور ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کر کے جان لیوا بیماری سے چھٹکارہ حاصل کریں ۔

جہلم شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments