پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پیر کو مندی رہی، سرمایہ کاروں کے 37 ارب روپے سے زائد ڈوب گئے

منگل جون 00:18

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 جون2021ء) پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پیر کو کاروبار حصص میں مندی رہی اور کے ایس ای100انڈیکس 48200پوائنٹس اور 48100پوائنٹس سے نیچے گر گیا ،کاروباریمندی کے سبب مارکیٹ سرمائے میں37ارب33کروڑ روپے سے زائد کا خسارہ ہوا جبکہ کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کے مقابلے میں زیادہ رہا ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پیرکو کاروبارکا آغاز مثبت زون میں ہوا، تاہم گزرتے وقت کے ساتھ سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کے حصول کیلئے حصص کی فروخت سے کاروبار مندی کی جانب چلا گیااورکاروبار کے اختتام پر دونفسیاتی حدوں سے گر کر انڈیکس48000پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا ۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پیر کو کے ایس ای100انڈیکس میں226.15پوائنٹس گھٹ کر48012.52پوائنٹس ہو گیا،کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 86پوائنٹس کے خسارے سے 19339.65پوائنٹس ، کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 146.19پوائنٹس کی کمی سی32723.04 پوائنٹس اورکے ایم آئی30انڈیکس522.99پوائنٹس کی کمی کے بعد78680.08پوائنٹس پر بند ہوا ۔

(جاری ہے)

مندی کے سبب مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ 37ارب33کروڑ44لاکھ19ہزار232روپے کی کمی سے 83کھرب57ارب34کروڑ21لاکھ29ہزار278روپے ہو گیا۔

مارکیٹ میںپیر کو 83کروڑ91لاکھ 86ہزار 587حصص کے سودے ہوئے جبکہ گزشتہ جمعہ کو 75کروڑ5لاکھ 61ہزارشیئرز کا کاروبار ہواتھا ۔مارکیٹ میں پیر کو مجموعی طور پر411کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سی163کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ،233میں کمی اور15کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔کاروبار کے لحاظ سے نمایاں کمپنیوں میںسلک بینک،ہم نیٹ ورک ،ورلڈ کال ٹیلی کام، پاکستان انٹرنیشنل بلک ،فوجی فوڈز،بائیکو پیٹرولیم،کے الیکٹرک،غنی گلوبل گلاس،یونٹی فوڈز لمیٹڈ شامل رہیں ۔

قیمتوں میں اتار چڑھاو کے اعتبار سے رفحان میظ کے حصص کی قیمت میں 44.55روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد اسکے حصص کی قیمت9500.00روپے ہو گئی، اسی طرح39.15روپے کے اضافے سے صنوفی ایو انٹس کے حصص کی قیمت63.98روپے بڑھ کر989.98روپے اور بھانیرو ٹیکسٹائل کے حصص کی قیمت59روپے کے اضافے سے 1059روپے پر پہنچ گئی،نمایاں کمی یونی لیور فوڈز اورکولگیٹ پامولیو کے حصص کے داموں میں رہی جنکی قیمتیں840روپے اور98روپے کی کمی سے بالترتیب15710روپے اور2700روپے رہ گئی ۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments