محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی میں طلبہ کا روّیہ بہتربنانے کے لئے نفسیاتی کلینک قائم کیا جائے گا

منگل فروری 17:27

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 فروری2019ء) محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی(ماجو) کے صدر پروفیسر ڈاکٹر زبیر شیخ نے کہا ہے کہ یونیورسٹی کیمپس میں بہت جلد ایک نفسیاتی کلینک کا قیام عمل میں لایا جائے گا تاکہ ہم اپنے طلبہ کو انکا رویہ بہتر بنانے کے لئے مدد کر سکیں اور ان کو مثبت سوچ کا حامل فرد بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے سماج میں ایکدوسرے پر اعتماد کرنے جذبہ پیدا ہو نا چاہیے جس کی وجہ سے ہماری سوسائیٹی ترقی کرسکے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ شام یونیورسٹی کیمپس میں نئے سیمسٹر اسپرنگ۔۹۱۰۲ کے آغاز پر بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ مینجمنٹ سوسائیٹی اور بائیو سائینسز فیکلٹیز کے ڈگری پروگراموں میں داخلے لینے والے طلبہ کے لئے منعقد ہونے والے ایک تعارفی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

اجلاس سی فیکلٹی آف لائیف سائینسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر کامران عظیم،بزنس ایڈ منسٹریشن اینڈ مینجمنٹ سائینس فیکلٹی کے ایسوسی ایٹ ڈین ڈاکٹر شجاعت مبارک،شعبہ جاتی سربراہان ڈاکٹر منیر حسین، ڈاکٹر ایس ایم نعمان شاہ اور حسن جاوید کے علاوہ رجسٹرار اکیڈمکس محمد کاشف خان نے بھی طلبہ سے خطاب کیا۔

ڈاکٹر زبیر شیخ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماجو میں داخلہ لینے والے طلبہ کی کمیونیکیشن کی مہارت میں اضافہ پر سب سے زیادہ توجہ دی جاتی ہے تاکہ ہم اپنی سوسائیٹی کو آئیڈل گریجویٹ نوجوان فراہم کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ جن طلبہ نے اس سال ماجو میں داخلہ لیا ہے انھیں پورا یقین ہے کہ آئیندہ چار سال بعد وہ یہاں سے گریجویشن مکمل کرنے پر خود کو ایک مکمل نیا انسان پائیں گے اور ان میں کچھ نیا کر دکھانے کا جذبہ موجود ہوگا۔

انہوں نے طلبہ کو بتایا کہ ہم نے اکنامکس اینڈ فنانس،ایچ آر، مارکیٹنگ،سپلائی چین اور پراجیکٹ مینجمنٹِ کے علاوہ بائیو سائینسز کا تعلیم بھی شروع کی ہے جس کا شمار آج کے دس بہترین تعلیمی پراگراموں میں کیا جاتا ہے جو بائیولوجی اور کمپیوٹر سائینس پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بائیو سائینسز میں ڈی این اے ٹیسٹ کے علاوہ ایک انسان کے جنیوم کو دوسرے انسان میں منتقلی کا کامیاب تجربہ کیا جاچکا ہے۔

ڈاکٹر زبیر شیخ نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان بننے کی بھی کوشش کریں تاکہ دیگر افراد ان کی شخصیت سے متاثر ہو سکیں۔ڈاکٹر شجاعت مبارک نے طلبہ سے کہا کہ اسکول اور کالج کی روائیتی تعلیم کے بعد یونیورسٹی میں ایک نئی طرز تعلیم سے متعارف ہونگے جس سے ان کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوگا۔ ڈاکٹر کامران عظیم نے کہا طلبہ سے کہ ماجو میں تعلیم کے علاوہ اور بھی بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا اور وہ عصر حاضر کی جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے استعمال سے بھی آشنا ہونگے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments