اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریںڈان لیکس پر کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا ، چوہدری نثار ٹویٹ کسی بھی ..

ڈان لیکس پر کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا ، چوہدری نثار

ٹویٹ کسی بھی ادارے اور جمہوریت کے لیے زہر قاتل ہے , نوٹیفکیشن صرف وزارت داخلہ جاری کرسکتی ہے جب کچھ ہوا نہیں تو بھونچال کیسے آگیا , کسی بھی زیر حراست شخص کو میڈیا میں لانا غیر قانونی ہے ، کسی بھی دہشت گرد سے انٹر ویو لینا غلط ہے ، زیر حراست شخص کا انٹرویو آنا ہماری کوشش کی نفی ہے، وزیر داخلہ , جوبھی ماتحت ادار ے ہیں ان میں بہتری لاؤں گا،، 70 سال میں ملک بھر میں 95 پاسپورٹ آفس تھے ، ہم نے 72نئے ریجنل پاسپورٹ دفاتر قائم کیے ہیں، کراچی میں اسٹیٹ آف دی آرٹ نادرا دفترقائم کیا جائے گا , کراچی آپریشن کے لیے پاکستان کے عوام نے ساتھ دیا ہے ، عوام کا ساتھ رہا تو کراچی آپریشن ضرور کامیاب ہو گا , زرداری صاحب کے جو لوگ اٹھائے گئے ان کے بارے میں زرداری صاحب نے خود کہا ہے کہ ان کو معلوم ہے کس نے اٹھائے ہیں ، زرداری ہمیں بھی بتا دیں تو ہمیں ان کی مدد کرنے میں آ سانی ہو گی , بھارتی سے ملنے پر وزیر اعظم نواز شریف مشکوک نہیں ہو گئے ، بھارت سے متعلق میرا موقف سخت ہے، کسی سے ملنے سے کوئی مشکوک نہیں ہوتا، وزیراعظم محب وطن ہیں،ان کے مشکوک ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، پریس کانفرنس

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2017ء) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ٹویٹ کسی بھی ادارے اور جمہوریت کے لیے زہر قاتل ہے ، ڈان لیکس پر نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا ، نوٹیفکیشن وزارت داخلہ جاری کرے گی ، نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا تو بھونچال کیسے آ گیا ، کسی بھی زیر حراست شخص کو میڈیا میں لانا غیر قانونی ہے ، اور کسی بھی دہشت گرد سے انٹر ویو لینا غلط ہے ، زیر حراست شخص کا انٹرویو آنا ہماری کوشش کی نفی ہے،ایپی این ایس،سی پی این ای،پی بی اے سے دہشتگرد وں کا انٹرویوختم کرنے کی درخواست کی تھی۔

ہفتے کے روز کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزرات داخلہ کے جوبھی ماتحت ادار ے ہیں ان میں بہتری لاؤں گا،گزشتہ 70 سال میں ملک بھر میں 95 پاسپورٹ آفس تھے ، ہم نے 72نئے ریجنل پاسپورٹ دفاتر قائم کیے ہیں، کراچی میں اسٹیٹ آف دی آرٹ نادرا دفترقائم کیا جائے گا۔

(خبر جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سندھ میں دس سال سے ایک ہی جماعت کی حکومت ہے،سندھ میں بھی تبدیلی آنی چاہئیے ، سندھ رینجرز کا بجٹ 12 ارب ہے جووفاق دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ رینجرز کا 2013 میں بجٹ7 ارب تھا اب12 ارب روپے ہے ، سندھ رینجرزکیپاس آؤٹ ہونیوالے آج سے ہی ذمیداریاں سنبھالیں گے، سندھ رینجرز کا تما م بجٹ وفا ق فراہم کرتا ہے، کراچی آپریشن کی رفتارسست نہیں ہوئی،نہ وفاق کی طرف سے سپورٹ میں کمی آئی ہے، وزیراعظم کراچی آکرایک اجلاس کریں، کراچی آپریشن کومنطقی انجام تک لے جانا ہے، کراچی آپریشن کے لیے پاکستان کے عوام نے ساتھ دیا ہے ، عوام کا ساتھ رہا تو کراچی آپریشن ضرور کامیاب ہو گا ، وفاق،صوبہ اورسیکیورٹی ادارے مل کربیٹھیں،صوبوں کی سول آرمڈ فورسز کو موثر اور مضبوط بنانے کیلیے 88 ارب روپے دیے گئے،پاک افغان بارڈر پر بغیر سفری دستاویزات کے آمد ورفت روکی گئی ہے ، ماضی میں طورخم بارڈرپر30سی50ہزارافرادروزانہ بغیرسفری دستاویزات آمدورفت کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کسی پر الزام ہے تو اسے عدالت کے کٹہھرے میں کھڑا کیا جائے، کسی کو اٹھانا دانشمندی نہیں ہے ، زرداری صاحب کے جو لوگ اٹھائے گئے ان کے بارے میں زرداری صاحب نے خود کہا ہے کہ ان کو معلوم ہے کس نے اٹھائے ہیں ، زرداری ہمیں بھی بتا دیں تو ہمیں ان کی مدد کرنے میں آ سانی ہو گی ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ٹوئٹ کسی بھی طرف سے پاکستان کے نظام کے لیے زہرقاتل ہے، سمجھ نہیں آتا،نوٹی فکیشن ہوا نہیں،بھونچال کیسے آگیا نوٹی فکیشن وہی ہونا ہے جوسفارشات کمیٹی میں آئی ہیں، یہ شورکیوں ہے برپا خدا ہی جانے، ٹوئٹ سے ہی معاملات کوہینڈ کرنابدقسمتی ہے، ڈان لیکس رپورٹ پر نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا تحریری سفارشات کوبنیاد بناکروزارت داخلہ نوٹی فکیشن جاری کرے گا، نوٹی فکیشن جاری کرنا وزارت داخلہ کی ذمے داری ہے، کسی کوبچانے کی کوشش نہیں کی جائے گی،چ کسی پر الزام ہے تو اسے عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی سے ملنے پر وزیر اعظم نواز شریف مشکوک نہیں ہو گئے ، بھارت سے متعلق میرا موقف سخت ہے، کسی سے ملنے سے کوئی مشکوک نہیں ہوتا، وزیراعظم محب وطن ہیں،ان کے مشکوک ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کے کہنے پرتووزارت تبدیل نہیں ہو سکتی ،زرداری کے مطالبے پر میں وزارت سے استعفی نہیں دے سکتا ۔

چوہدری نثار نے کہا کہ زیرحراست شخص کومیڈیا پرلے آنا غیراخلاقی ہی نہیں غیرقانونی ہے،ر کسی بھی دہشت گرد سے انٹر ویو لینا غلط ہے ،بانی ایم کیوایم کوپہلے اعلان کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان پریقین رکھتے ہیں، اگربانی ایم کیوایم پاکستان کونہیں مانتے توان کوپاکستان میں سیاست کرنے کا کیا حق ہے سندھ کے عوام کے پاس دوسرا آپشن ہونا چاہیے، جوبھارت سے مدد لیتے ہیں ان کوقومی دھارے میں نہیں لایا جاسکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں