سندھ اسمبلی،کوٹری بیراج کے نیچے پانی نہ ہونے کی وجہ سے دریائے سندھ کا ڈیلٹا ،ساحلی زمینیں تباہ ہو رہی ہیں،وزیر اعلی سندھ

پیر جنوری 23:02

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جنوری2018ء) وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کوٹری بیراج کے نیچے پانی نہ چھوڑنا سندھ کے لیے بہت اہم مسئلہ ہے۔سندھ اسمبلی اس مسئلے پر تفصیلی بحث کرے کیوں کہ کوٹری بیراج کے نیچے پانی نہ چھوڑنے کی وجہ سے دریائے سندھ کا ڈیلٹا اور ساحلی زمینیں تباہ ہو رہی ہیں ۔سندھ اسمبلی کوٹری بیراج سے نیچے پانی چھوڑنے کی قرار داد منظو رکر ے ۔

سکھر بیراج کے بارے میں عالمی بینک کے تعاون سے اسٹڈی جاری ہے ۔ان خیا لات کا اظہار انہوں نے پیر کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ آب پاشی سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران متعدد ارکان کے تحریری اور ضمنی سوالوں کے جوابات میں کہی ۔ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد اور دیگر ارکان نے اس مسئلے پر بحث کرنے کی وزیر اعلیٰ کی تجویز سے اتفاق کیا ۔

(جاری ہے)

وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ پانی کی چوری روکنے کے لیے نہروں پر رینجرز تعینات کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے ۔ محکمہ آب پاشی پہلے ہی پولیس کے تعاون سے نہروں کی نگرانی کر رہا ہے ۔ پانی چوری ہوتا ہے لیکن اس پر کارروائی بھی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سکھر بیراج میں 38 ایکڑ کا ایک مصنوعی جزیرہ بنایا گیا تھا ، جس کی وجہ سے نظام آب پاشی کو کوئی نقصان نہیں ہو رہا ۔

انہوں نے کہا کہ 1932 ء میں بیراج کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد یہ پتہ چلا کہ دائیں کنارے کی نہروں ( دادو کینال ، رائس کینال اور اینڈ ڈبلیو کینال ) میں بڑے پیمانے پر ریت جمع ہو رہی تھی۔ 1938 ء میں پونا انڈیا کے ہائیڈرولک ماڈل کے پیش نظر سکھر بیراج میں بھی 66 گیٹس میں سے 10 گیٹس بند کر دیئے گئے اور ایک مصنوعی جزیرہ بنایا گیا تاکہ گیٹ نمبر 6 سے گیٹ نمبر 14 تک ریت جمع نہ ہو سکے ۔

اس مصنوعی جزیرے سے نظام آب پاشی کو کوئی نقصان نہیں ہوا ہے ۔ عالمی بینک کے تعاون سے اسٹڈی کرا رہے ہیں ۔ یہ اسٹڈی مکمل ہونے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ سکھر بیراج کی جگہ نیا بیراج بنایا جائے یا اس کی ری ماڈلنگ کی جائے ۔ اس کے لیے کئی سو ارب روپے درکار ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ 2010 ء کے سیلاب کے بعد دریائے سندھ کے بندوں کو مضبوط کرنے کے لیے 170 اسکیمیں شروع کی گئیں،جن پر 18 ارب 29 کروڑ روپے خرچ ہوئے ۔

ان اسکیموں کے لیے فنڈز ایشیائی ترقیاتی بینک اور حکومت سندھ نے مہیا کیے تھے ۔ اس میں 16 ارب 60 کروڑ روپے ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایک ارب 85 کروڑ روپے سندھ حکومت نے فراہم کیے ۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے یہ رقم قرضے کے طور پر لی گئی تھی ، جسے 20 سے 25 سال میں واپس کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2007-08 ء میں سندھ اسمال ڈیمز آرگنائزیشن قائم کی گئی تھی ، جس نے اب تک نگر پارکر اور کوہستان ریجن میں 57چھوٹے ڈیم تعمیر کیے ہیں اور مزید30 چھوٹے ڈیمز پر کام جاری ہے ۔

کراچی سمیت پورے صوبے میں مزید چھوٹے ڈیمز بنائے جا سکتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ دریائے سندھ میں پانی کے کم بہاؤ کی وجہ سے صوبہ سندھ میں دریاء کے ڈیلٹا کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ لاکھوں سالوں سے دریاء کے بہاؤ کے ساتھ ریت جمع ہو رہی ہے ۔ آب پاشی کے مقاصد کے لیے پانی کے استعمال کی وجہ سے بحیرہ عرب میں کم پانی جا رہا ہے ، جس کی وجہ سے ریت جمع ہونے کا عمل بڑھ گیا ہے اور سمندر کا پانی ڈیلٹا میں اوپر چڑھ آیا ہے ۔ ساحلی علاقے کی زرخیز زمینیں تباہ ہو رہی ہیں ۔ حکومت سندھ مسلسل انڈس ریور سسٹم اتھارٹی ( ارسا ) پر زور دے رہی ہے کہ وہ کوٹری بیراج سے نیچے دریائے سندھ میں پانی چھوڑے تاکہ دریائے سندھ کے ڈیلٹا کو بچایا جا سکے اور تیمر کے جنگلات میں اضافہ کیا جا سکے۔

متعلقہ عنوان :

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments