اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریںکراچی،، محکمہ تعلیم 6سال قبل بھرتی ہونیوالے اساتذہ کی مستقلی کی سمری ..

کراچی،، محکمہ تعلیم 6سال قبل بھرتی ہونیوالے اساتذہ کی مستقلی کی سمری وزیر اعلی کو نہ بھیج کر اساتذہ دشمنی کا مظاہر ہ کر رہا ہے، راہنماء ٹیچرز ایسوسی ایشن

حکومت مدت ختم ہونے سے قبل اس معاملے کا نوٹس لیکر مسئلے کو حل کریں،ظہیر احمد بلوچ

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 فروری2018ء)محکمہ اسکول ایجوکیشن میں سال2012کے دوران بھرتی ہونیوالے دیگر کیڈر کے اساتذ ہ نے کہا ہے کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن وزیر اعلی سندھ کے احکامات کی دھجیاں اڑا رہا ہے ، محکمہ تعلیم 6سال قبل بھرتی ہونیوالے اساتذہ کی مستقلی کی سمری تیار ہونے کے باوجود وزیر اعلی کو نہ بھیج کر اساتذہ دشمنی کا مظاہر ہ کر رہا ہے ،اساتذہ نے پیپلز پارٹی کے قائدین سے اپیل کی ہے کہ حکومت مدت ختم ہونے سے قبل اس معاملے کا نوٹس لیکر مسئلے کو حل کریں ورنہ ہم اپنا مقدمہ عوامی عدالت میں پیش کرنے پر مجبور ہوں گے ۔

ٹیچرز ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین ظہیر احمد بلوچ نے پیپلز پارٹی ضلع ملیر کے قائدین کے نام لکھے گئے خط میں کہا کہ سندھ حکومت نے مشرف دور میں بھرتی ہونیوالے ہزاروں اساتذہ کو تنخواہیں جاری کیں ،اقراء یونیورسٹی اور سندھ یونیورسٹی کے اساتذہ کو بحال کیا جو سال2012ء کے مختلف کیڈر کے اساتذہ سے کئی گنا زیادہ ہیں این ٹی ایس کی23ہزار اساتذة کو مستقل کیا گیا مگر محکمہ اسکول ایجوکیشن سال2012ء میں بھرتی ہونیوالے چند سو سندھی لینگویج ٹیچرز ،ڈرائئنگ ٹیچرز اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو بھرتیوں کے بعد سے آج تک تنخواہ جاری نہیں کر سکا،تنخواہوں کیلئے اساتذہ نے 350سے زائد احتجاجی مظاہرے کئے اس دوران انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا اور انہیں گرفتار بھی کیا گیا، معاملہ حل کرنے کی درجنو ں یقین دہانیاں کی گئیں مگر مسئلہ جوں کا توں ہے ۔

(خبر جاری ہے)

رہنمائوں نے کہا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن ہمیں مسلسل نظر انداز کر رہا ہے اگر حکومتی مدت ختم ہونے سے قبل اساتذہ کو تنخواہیں جاری نہ کی گئیں تو بھی راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں گے

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں