اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریں․پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں گزشتہ کاروباری ہفتے کے دوران بدترین مندی ..

․پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں گزشتہ کاروباری ہفتے کے دوران بدترین مندی ریکارڈ کی گئی، سرمایہ کاروں کے 3کھرب روپے سے زائد ڈوب گئے

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء)پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں گزشتہ کاروباری ہفتے کے دوران بدترین مندی ریکارڈ کی گئی ۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کے متنازعہ بیان کے باعث ملک بھر میں پھیلنے والی بے چینی سے سرمایہ کار بھی متاثر ہوئے اور انہوں نے گھبراہٹ میںمارکیٹ سے سرمایہ نکالنے کی عرض سے دھڑا دھڑ حصص فروخت کئے جس کے سبب ہفتہ بھر مندی کے اثرات چھائے اورکے ایس ای100انڈیکس1971پوائنٹس گرتے ہوئے 41623پوائنٹس کی نچلی سطح پر آگیاجب کہ مندی سے مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں بھی 3کھرب32ارب29کروڑ46لاکھ روپے کی کمی ہوئی اور حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری سرگرمیاں بھی رواں سال کی کم ترین سطح پر رہی۔

واضح رہے کہ وفاقی بجٹ اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل مندی د دیکھی جارہی ہے جس کے نتیجے میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران اب تک کے ایس ای100انڈیکس میںمجموعی طور پر3889پوائنٹس کی کمی واقع ہوچکی ہے جب کہ مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں بھی7کھرب 50ارب روپے سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

(خبر جاری ہے)

.پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی ہفتہ وار کارکردگی رپورٹ کے مطابق 14تا18مئی پر مشتمل ہفتے کے پہلے روز پیر کو گزشتہ پانچ ماہ کی کسی ایک ٹریڈنگ سیشن میںبدترین مندی دیکھنے میں آئی اورملکی وغیر ملکی سرمایہ کاروں نے گھبراہٹ میں مارکیٹ سے سرمایہ نکالنا شروع کردیا جس کے نتیجے میں مندی چھاگئی اورکے ایس ای 100 انڈیکس43ہزار کی نفسیاتی حد سے گرتے ہوئی1095.93پوائنٹس کی کمی سی42498.86پوائنٹس کی سطح پر آگیاجب کہ حصص کی فروخت کے دباؤ کے باعث 87.14فیصد حصص کی قیمتوں میںکمی ریکارڈ کی گئی جس سے سرمایہ کاروں کو 2کھرب 9ارب 48کروڑ62لاکھ روپے سے زائدکا نقصان اٹھانا پڑااورمارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت87کھرب63ارب 60کروڑ92لاکھ روپے ہو گئی۔

منگل کو ابتدائی اوقات میں شدید مندی چھائی رہی لیکن بعد ازاں بدترین مندی سے شیئرز کی قیمتیں گرنے اور پرکشش سطح پرآنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سرمایہ کاروں نے خریداری کی جس سے ریکوری تاہم مندی کے اثرات مکمل طور پر زائل نہ ہوسکے اورکے ایس ای 100 انڈیکس مزید 39.33پوائنٹس کی کمی سے 42459.53پوائنٹس کی سطح پر آگیاجب کہ52.70 فیصد حصص کی قیمتوں میںاضافہ ہوا لیکن اس کے باجود مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میںمزید 35ارب 40کروڑ13لاکھ روپے کی کمی ہوئی جب کہ حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم بھی پیر کی نسبت 49لاکھ 82ہزار شیئرزکم رہا اسی طرح بدھ کو بھی شدید مندی کا رجحان جاری رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس مزید158.33پوا ئنٹس کی کمی سے 42301.20پوائنٹس کی سطح پر آگیا جب کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص فروخت کو ترجیع دینے کے باعث 53.80فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں 15ارب 90کروڑروپے سے زائدکی کمی ہوئی ، حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم بھی صرف7کروڑ75لاکھ 26ہزار شیئرز تک محدود رہا جو گزشتہ پانچ ماہ کے دوران کسی بھی ایک ٹریڈنگ سیشن میں کم ترین کاروباری حجم ہے۔

مندی کاتسلسل کاروباری ہفتے کے چوتھے روز جمعرات کو بھی جاری رہااور کے ایس ای 100 انڈیکس 431.55پوائنٹس کمی سے 41869.65پوائنٹس کی سطح پر آگیاجب کہ حصص کی فروخت کا دباو،ْ بڑھنے کے باعث71.33فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جس سے سرمایہ کاروں کو مزید34ارب 98کروڑروپے کا نقصان اٹھانا پڑاجب کہ حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم صرف5کروڑ69لاکھ37ہزارشیئرز تک محدود رہااسی طرح جمعہ کو بھی مندی کا تلسل برقرار رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس41800اور41700 کی نفسیاتی حدوں سے گرتے ہوئے مزید246.13پوائنٹس کمی سے 41623.52پوائنٹس کی سطح پر آگیا جب کہ حصص کی فروخت کا دباؤ بڑھنے کے باعث69.64فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جس سے سرمایہ کاروں کو36ارب51کروڑروپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا البتہ حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم جمعرات کی نسبت قدرے بہتر رہا۔

اسٹاک ماہرین کے مطابق آئندہ ہفتہ بھی اسٹاک مارکیٹ میں منفی اثرات غالب رہنے کا امکان ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں