اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریںسابق ایس ایس پی ملیر را ؤانوار سمیت دیگر 5 ملزمان کی درخواست ضمانت پر ..

سابق ایس ایس پی ملیر را ؤانوار سمیت دیگر 5 ملزمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 جولائی2018ء)انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس سے منسلک دوسرے مقدمے میں سابق ایس ایس پی ملیر را ؤانوار سمیت دیگر 5 ملزمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ راؤ انوار کی درخواست ضمانت پر فیصلہ 20 جولائی جبکہ ڈی ایس پی قمر سمیت 4 ملزمان کی ضمانت پر فیصلہ 28 جولائی کو سنایا جائیگا۔ کراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت کے روبرو راؤ انوار سمیت دیگر ملزمان کے خلاف غیر قانونی اسلحہ اور دھماکہ خیر مواد رکھنے سے متعلق سماعت ہوئی۔

را ؤانوار کے وکیل عامر منسوب ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ یہ مقدمہ تفتیشی حکام نے ایڈمنسٹریٹیو جج کے آرڈر کے بغیر درج کیا۔ اور میرے موکل کا نام اس میں بدنیتی کی بنا پر شامل کیا گیا۔

(خبر جاری ہے)

نقیب اللہ اور اس کے ساتھیوں پر غیر قانونی اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کا مقدمہ بی کلاس تو کیا گیا لیکن اس پر عدالت نے کوئی حکم جاری نہیں کیا۔ عامر منسوب نے موقف اپنایا کہ جب مقدمہ بی کلاس کرنے کی رپورٹ پر کوئی عدالتی احکامات موجود نہیں تو تفتیشی حکام نے دوسرا مقدمہ کیسے درج کیا۔

اور ویسے بھی جب معزز عدالت کہہ چکی ہے کہ اب تک کے شواہد کے مطابق میرے موکل را انوار موقع پر موجود ہی نہیں تھے تو میرے موکل کا نام اس مقدمے میں ناجانے کیوں اور کس بنا پر شامل کیا گیا۔ عدالت نے طرف ین کا موقف سننے کے بعد را انوار، ڈی ایس پی قمر احمد سمیت 5 ملزمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ را انوار کی درخواست ضمانت پر فیصلہ 20 جولائی اور ڈی ایس پی قمر احمد سمیت 4 ملزمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ 28 جولائی کو سنایا جائے۔

ملزمان میں ڈی ایس پی قمر احمد، سپرد حسین، خضر حیات اور محمد یاسین شامل ہیں۔ اس سے پہلے سماعت کے دوران مدعی مقدمہ کے وکیل نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ ہم عدالت پر پہلے ہی عدم اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں۔ ہم نے درخواست کی ہے کہ آپ کارروائی نہ کریں۔ عدالت نے مدعی مقدمہ کے وکیل سے مکالمہ میں کہا کہ آپ کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

درخواست درست کرکے لائیں۔ دوسری جانب مقدمے کی کارروائی معطل نہ کرنے پر مدعی مقدمہ محمد خان کے وکیل بیرسٹر فیصل صدیقی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ عدالت کو تحریری طور پر کارروائی معطل کرنے کی درخواست دے چکے۔ کارروائی معطل نہ کرنا انصاف کا قتل ہے۔ انصاف کی فراہمی سے متعلق آج ایک سیاہ دن ہے۔ اے ٹی سی عدالت سے کسی قسم کی انصاف کی توقع نہیں رہی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں