پیسے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی اُونچی اُڑان میں انٹرنیشنل مافیا ملوث

ڈالر کی اُونچی اُڑان میں انٹرنیشنل مافیا کے ملوث ہونے کے ثبوت مل گئے۔ قومی اخبار کی رپورٹ

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ جولائی 11:10

پیسے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی اُونچی اُڑان میں انٹرنیشنل مافیا ملوث
کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 جولائی 2018ء) : رواں ہفتے ڈالر کی قیمت میں دو سے تین مرتبہ اضافہ ہوا جس سے ڈالر 130 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا جبکہ پیسے کی قدر میں بتدریج کمی آئی۔ ڈالر کی اس اُونچی اُڑان میں انٹرنیشنل مافیا کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈالر کی اُونچی اُڑان میں ملوث انٹر نیشنل مافیا کے پیچھے پاکستان مخالف قوتوں کا اہم کردار ہے جبکہ پاکستان کے اندر موجود پانچ بڑے سرمایہ کار بھی اس گروپ اور مافیا کا حصہ ہیں۔

ڈالر کس وقت کتنا مہنگا ہونا ہے اور کس وقت سستا ہونا ہے، با اثر ما فیا نہ صرف اس سے آ گاہ ہو تا ہے بلکہ ڈالر مہنگا ہونے پر مارکیٹ سے غائب اور سستا ہو نے پر مارکیٹ میں ایک روز پہلے آ جاتا ہے ۔

(جاری ہے)

با وثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے اہم قومی اداروں نے نہ صرف اہم ثبوت حاصل کر لئے ہیں بلکہ بہت سے ایسے انکشافات بھی سامنے آ ئے ہیں جس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایک منصوبے کے تحت ڈالر کو مہنگا کیا جا رہا ہے۔

اس انکشاف کے مطابق پاکستان کے اندر روپے کی قیمت کو گرانے کا منصوبہ چھ ماہ پہلے بن چکا تھا اور اس منصوبہ میں دو وفاقی سابق وزرا ،چھ بینکرز ، اور بڑے سرمایہ کار گروپ بھی شامل تھے اور اس حوالے سے لندن میں ایک اہم میٹنگ ہو چکی تھی اور اس میں باقاعدہ ایک انٹر نیشنل ادارے کے دو افراد بھی شامل تھے۔ با وثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ جس وقت ڈالر کی قیمت 115روپے تھی اس وقت ڈالر مہنگا کرنے کی سازش میں شامل مافیا نے ڈالر کو مارکیٹ سے اُٹھانا شروع کر دیا تھا اور ایک پلاننگ کے تحت پاکستان کے اندر ایسی سرمایہ کاری کروائی گئی تھی کہ جن کی شرائط میں یہ چیز شامل تھی کہ رقم کی واپسی تین ماہ بعد ہو گی اور اس واپسی میں رقم اس ڈالرز میں اور اس وقت کی قیمت کے مطابق دی جائے گی ،با وثوق ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ جس وقت ڈالر 120تک گیا تو اس وقت بھی باقاعدہ مارکیٹ سے جس مافیا نے ڈالر غائب کیا اس کا تعلق اسی گروہ سے تھا جو ماضی میں بھی سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے منظور نظر رہے ہیں۔

ایک منصوبہ بندی کے تحت ڈالرکی قیمت صرف کچھ دن کے لیےکچھ کم کی گئی تھی پھر اس کے بعد قیمت دوبارہ بڑھا دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھانے والا مافیا تین چیزوں پر کام کر رہا ہے ایک یہ کہ وہ پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے ،دوسرا یہ کہ پاکستان کے قرضوں کو بڑھایا جائے اور تیسرا یہ کہ پاکستان تحریک انصاف کی متوقع حکومت بننے کی صورت میں اسے معاشی عدم استحکام کا نشانہ بنایا جا سکے۔

با وثوق ذرائع کے مطابق اہم اداروں نے اس حوالے سےاہم ثبوت حاصل کئے ہیں جن کے مطابق سابق حکومت کے تین ذمہ داران نے باقاعدہ ایک اہم میٹنگ میں یہ بات کہی تھی کہ ہم تو جا رہے ہیں مگر جو آ ئے گا اس کے لئے صرف قرض اُتارنا ہی سب سے بڑا مسئلہ ہو گا نہ ڈالر کو کنٹرول میں رہنے دیں گے اور نہ ہی کوئی خوشحالی آ نے دیں گے۔ رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ستمبر تک سب کچھ نئی حکومت کے گلے پڑ چکا ہو گا اور پھر لوگ ہمیں یاد کریں گے ۔

سابق حکومت کے کون کون سے اہم ذمہ داران اس میں ملوث ہیں اور اس مافیا کا حصہ ہیں، ان کے خلاف انتخابات کے بعد سخت اقدامات اُٹھائے جانے کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 40 پیسے کا اضافہ ہوا جس کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 130 روپے 10 پیسے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ اوپن مارکیٹ میں اب ڈالر 130 روپے 10 پیسے کی قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔ جبکہ ڈیلرز کے مطابق انٹربنک مارکیٹ میں ڈالر 128.50 روپے کی سطح پر مستحکم ہو گیا ہے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments