مجھ پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں، ہم نے کے پی کے میں حکومت کرکے کون سے محل بنا لئے ہیں

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کے سی سی آئی کی جانب سے اپنے اعزاز میں دی گئی تقریب سے خطاب

پیر جولائی 00:40

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جولائی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مجھ پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں، ہم نے کے پی کے میں حکومت کرکے کون سے محل بنا لئے ہیں، میں نے اپنی کوئی جائیدادیں یا جاگیریں نہیں بنائیں، پاکستان میں کرپشن کی وجہ سے ادارے تباہ ہو گئے ہیں، دوسری قومیں ہم سے آگے نکل گئی ہیں، ان سے مقابلہ کرنا چاہئے،کاروباری برادری کے لیے حکومت کو آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں، ہماری صنعتیں تباہ ہوچکی ہیں، ان کو بچانے کے لیے ہمیں پلان بنانا ہے، اس کے لیے ہمیں ملک کا حکومتی نظام بدلنا پڑے گا۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار اتوار کو مقامی ہوٹل میں کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی)کی جانب سے اپنے اعزاز میں دی گئی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پرصدر کراچی چیمبر مفسر ملک، بزنس مین گروپ کے چیئرمین سراج قاسم تیلی، وائس چیئرمین ہارون فاروقی، زبیرموتی والا دیگرتاجروں اور صنعتکاروں نے بھی خطاب کیا جبکہ عبدالباسط، ریحان حنیف، ہارون اگر، فیصل خلیل، جنید ماکڈا، پی ٹی آئی کے سینئر رہنما علی زیدی، ڈاکٹر عارف علوی، عمران اسماعیل اور فردوس شمیم نقوی سمیت پی ٹی آئی کراچی و سندھ کے رہنما میں موجود تھے۔

عمران خان نے کہا کہ بدعنوان حکمران پیسہ بنانے کے لیے پاور میں آتے ہیں، اقتدار میں آ کر اپنی ذات کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے، ہماری حکومت پانچ سال کے پی کے میں پاور میں رہی، کیا ہم نے اس سے پیسے بنائے یا کرپشن کی، کے پی 2013ء میں کیا تھا، اب کیا ہے، اب تعلیم وہاں ترقی کرچکی ہے،سب سے زیادہ صحت کا شعبہ وہاں ترقی کر رہا ہے، ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کے ادارے مضبوط کیے جائیں، ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک ترقی کرے گا۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ ہماری حکومت پانچ سال کے پی کے میں پاور میں رہی، کیا ہم نے اس سے پیسے بنائے یا کرپشن کی۔ ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا، خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی عروج پر تھی ، پولیس والے رات کو چوکیوں میں بند ہوجاتے تھے، لوگوں کو اغوا کرکے پیسہ طلب کیا جاتا تھا۔ 70 فیصد انڈسٹری وہاں بند ہوگئی تھی، کے پی کے 2013ء میں کیا تھا، اب کیا ہے۔

اب تعلیم وہاں ترقی کرچکی ہے، سب سے زیادہ صحت کا شعبہ وہاں ترقی کر رہا ہے، لیڈر برا ہوتا ہے تو مشیر بھی برا ہوتا ہے، خیبر پختونخواہ آج صوبوں میں سب سے آگے ہے، اقتدار میں آ کر اپنی ذات کو فائدہ پہنچانا کرپشن ہے،کے پی کے نے دیگر صوبوں سے زیادہ ترقی کی ہے۔ کبھی اپنے مخالف کو کمزور نہیں سمجھنا چاہئے، جس طرح کا لیڈر ہوتا ہے اسی طرح کے اس کے مشیر ہوتے ہیں۔

کے پی میں ہم نے ایک ارب اٹھارہ کروڑ درخت لگائے۔ صحت میں سب سے زیادہ ترقی کے پی کے نے کی۔ 2013ء اور آج کے خیبر پختونخواہ میں زمین آسمان کا فرق ہے، ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کے ادارے مضبوط کئے جائیں۔ ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک ترقی کرے گا۔ خوشحال ممالک کو پاکستان سے موازنہ کرکے ترقی کی جاسکتی ہے۔ سارے مسائل کی جڑ بدعنوان حکومت ہوتی ہے۔ پانی کا مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے، سالوں پرانا ہے۔ اختیارات کی جنگ میں کراچی کو پیس دیا گیا، اگر یہ مسئلہ حل ہوجاتا تو سب مسائل حل ہوجاتے، حکمرانوں کو پتہ ہونا چاہئے کہ ان کے حلقوں میں کیا کیا مسائل ہیں۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments