اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریںمنی لانڈرنگ کیس ،ْسابق صدر آصف زرداری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ..

منی لانڈرنگ کیس ،ْسابق صدر آصف زرداری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

عدالت کا تمام ملزمان کو چار ستمبر تک گرفتار کر کے پیش کر نے کا حکم … پیپلز پارٹی کی وارنٹ گرفتاری جاری کر نے کی تردید , ایف آئی اے سے تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں ،ْ اس سے قبل بھی کئی مقدمات تھے جس میں آصف زرداری باعزت بری ہوئے تھے ،ْفاروق نائیک

ْکراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اگست2018ء)کراچی کی بیکنگ کورٹس نے جعلی اکاؤنٹس سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری سمیت دیگر ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے۔ جمعہ کو کراچی کی بینکنگ کورٹس منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جہاں وفاقی تحقیقاتی اداری(ایف آئی ای) نے گرفتار ملزمان اومنی گروپ کے مالک انور مجید اور عبدالغنی مجید کو پیش کیا۔

دوران سماعت ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کی جانب سے ملزم انور مجید اور ان کے بیٹے کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جس پر انور مجید کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے مخالفت کی تاہم عدالت نے ملزمان کے ایک ہفتے کا جسمانی ریمانڈ مںظور کرتے ہوئے 24 اگست تک انہیں ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔

(خبر جاری ہے)

دوران سماعت ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان پر جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات میں شامل نہ ہونے والے افراد سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی اور استدعا کی گئی کیس میں مفرور سابق صدر آصف علی زرداری سمیت دیگر 15 ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائے جس پر عدالت نے ان کی استدعا منظور کرلی۔عدالت کی جانب سے حکم دیا گیا کہ تمام ملزمان کو 4 ستمبر تک گرفتار کرکے پیش کیا جائے۔

خیال رہے کہ مفرور ملزمان میں سابق صدر آصف زرداری کے علاوہ نمر مجید، اسلم مسعود، عارف خان، نصیر عبداللہ حسین لوتھا، عدنان جاوید، محمد عمیر، محمد اقبال آرائیں، اعظم وزیر خان، زین ملک، مصطفی ذوالقرنین ودیگر شامل ہیں ،ْاس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور نے پہلے ہی ضمانت لے رکھی ہے جبکہ معروف بینکر حسین لوائی، طحہ رضا، انور مجید اور عبدالغنی کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

عدالت میں سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ایف آئی اے نے 14 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تھی، جس کی میں نے مخالفت کی اور عدالت نے ایک ہفتے کا ریمانڈ دیا۔انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری تفتیش میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا نہیں یہ ان کی صوابدید ہے کیونکہ سابق صدر نے ہمیشہ قانون کا سامنا کیا ہے۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ایف آئی اے سے تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس سے قبل بھی کئی مقدمات تھے، جس میں آصف زرداری باعزت بری ہوئے تھے۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی نے اصف علی زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے سے متعلق میڈیا رپورٹس کی تردید کی اور کہاکہ میڈیا پر چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔پی پی پی کے سینئر رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ آصف زرداری کے کوئی وارنٹ جاری نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے ان رپورٹ کی تردید کی اور کہا کہ عدالت نے اس طرح کا کوئی حکم جاری نہیں کیا۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں جعلی اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت کے بعد ایف آئی اے نے اومنی گروپ کے مالک انور مجید اور ان کے بیٹے کو عدالت کے احاطے سے گرفتار کرلیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں