اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریںعیدالاضحیٰ کنٹی جینسی پلان کے تحت 45046سے زائد سیکیورٹی اہلکار فرائض ..

عیدالاضحیٰ کنٹی جینسی پلان کے تحت 45046سے زائد سیکیورٹی اہلکار فرائض انجام دینگے

آئی جی سندھ امجد جاوید سلیمی کو عیدالاضحی سال2018ء کے سیکیورٹی پلان پر مشتمل رپورٹ پیش کردی گئی

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اگست2018ء)آئی جی سندھ امجد جاوید سلیمی نے پولیس کو ہدایات جاری کیں کہ چرم قربانی کو اکٹھا کرنے، انکی ترسیل وتقسیم کے حوالے سے ضابطہ اخلاق پر اسکی روح کیمطابق عمل درآمد کے ساتھ ساتھ دفعہ 144 کے تحت عائد پابندیوں پر بھی عمل درآمد کو انتہائی غیر جانبداری سے یقینی بنایا جائے۔ علاوہ ازیں مساجد، امام بارگاہوں، عیدگاہوں ودیگر کھلے مقامات سمیت اجتماعی قربانی کے مختلف مقامات پر بھی سیکیورٹی کے فول پروف اقدامات کئے جائیں تاکہ عوام کے جان ومال کی سلامتی کے مجموعی امور کو یقینی بنایا جاسکے ۔

وہ کراچی سمیت دیگر پولیس رینج کے مرتب کردہ کنٹی جینسی پلانز کے حوالے سے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز ٹریفک،کراچی پولیس،اسپیشل برانچ سندھ،ایسٹ،ویسٹ،ساؤتھ زونز کے ڈی آئی جیزسمیت ٹریفک ،سی آئی ای(CIA)سیکورٹی،سی ٹی ڈی(CTD)کے ڈی آئی جیز ،تمام ضلعی ایس ایس پیز ،اے آئی جیزویلفیئر،ایڈمن سی پی او اور آپریشنز سندھ نے بھی شرکت کی۔

(خبر جاری ہے)

کراچی پولیس کی رپورٹ کیمطابق کم و بیش3143 مساجد،207امام بارگاہوں،34 اسماعیلی/بوہری جماعت خانوں،439 عیدگاہوں، اجتماعی قربانی کے کم وبیش 222مقامات،کھالوں کواکٹھا کرنے کے 794کیمپس ودیگر مقامات پر18609سے زائد پولیس افسران وجوان فرائض انجام دینگے ۔ علاوہ ازیں تمام پبلک مقامات کے ساتھ ساتھ عبادت گاہوں کے اندرونی حصوں واطراف میں سادہ لباس اہلکاروں کی تعیناتیوں کو بھی ممکن بنایا جارہا ہے جبکہ تمام ڈویژنل ایس پیز، ایس ڈی پی اوز و ایس ایچ اوز کو اس امر کا بھی پابند بنایا گیا ہے کہ عید گاہوں،مساجد،امام بارگاہوں،اہم تنصیبات، پبلک مقامات وغیرہ کے اطراف میں پیٹرولنگ، پکٹنگ، اسنیپ چیکنگ، ریکی ونگرانی کے عمل کو مربوط اور مؤثر بنایا جائے۔

کنٹی جینسی پلان کیمطابق قابل اعتراض، دل آزار، شرپسندانہ وال چاکنگ، لٹریچرز ، پمفلٹس کی تقسیم کی روک تھام اور ملوث عناصر/شرپسندوں کے خلاف بلاتفریق کاروائیوں سمیت چرم قربانی اکٹھا کرنے اور انکی منتقلی/ترسیل پر مامور گاڑیوں کی سیکیورٹی کو بھی سیکیورٹی پلان کا حصہ بنایا گیا ہے۔رپورٹ میں مذید بتایا گیا کہ شہر میں کم وبیش566 موبائلوں،218 موٹرسائیکلوں پر سوار افسران وجوان پیٹرولنگ،اسنیپ چیکنگ اور پکٹنگ کی ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں جوکہ مجموعی ڈپلائمنٹ اور ریزرو پلاٹونز کے علاوہ ہیں۔

جبکہ آر آر ایف(RRF)، ایس آر پی(SRP) پر مشتمل اضافی نفری بھی کراچی پولیس کو دستیاب ہوگی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیکیورٹی اقدامات کے ضمن میں اسپیشل برانچ، سی ٹی ڈی و دیگر پولیس یونٹس بھی کراچی پولیس سے مربوط روابط میں رہیں گے ۔رپورٹ کے مطابق سینٹرل پولیس آفس میں قائم مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے بعد از مانیٹرنگ / سرویلنس سے وقتاّ فوقتاّ جاری احکامات پر بروقت عمل درآمد کو بھی سیکیورٹی پلان میں ناصرف شامل کیا گیا ہے بلکہ اس ضمن میں پولیس ڈپلائمنٹ کو باقاعدہ بریفنگ بھی دی گئی ہے ۔

سکھر،حیدرآباد،میرپور خاص ،لاڑکانہ اور شہید بینظیرآبادپولیس رینج کی رپورٹ کیمطابق مجموعی مساجد، امام بارگاہوں، عیدگاہوں، چرم قربانی کے اکٹھاکرنے کے مقامات، اجتماعی قربانی کے مقامات سمیت دیگرتمام اہم تنصیبات،پبلک مقامات وغیرہ پرپکٹنگ،پیٹرولنگ،اسنیپ چیکنگ،ریکی،نگرانی،انٹیلی جینس کلیکشن کے حوالے سے مجموعی طور پر26437سے زائدافسران و جوانوں کو فرائض پر مامور کیا گیا ہے ۔

آئی جی سندھ نے ہدایات جاری کیں کہ سیکیورٹی پلان کے مجموعی امور کو غیر معمولی بنانے کے ضمن میں قانون نافذ کرنیوالے دیگر اداروں و انٹیلی جینس ایجنسیوں سے مربوط رابطوں کو یقینی بنایا جائے اور پروایکٹیو پولیسنگ کے تحت انٹیلی جینس کلیکشن، شیئرنگ اور فالوکرنے کے عمل کو بھی یقینی بنایا جائے ۔ ترجمان سندھ پولیس نے عوام سے کہا ہے کہ کسی بھی علاقہ/مقام پر مشکوک سرگرمی مشتبہ گاڑی،پیکٹ، پارسل،بیگ،تھیلا،بریف کیس وغیرہ دکھائی دینے پر فوری اطلاع مددگار 15کال سینٹر، ایس ایس پیز دفاتر، قریبی تھانوں،گشت پکٹنگ پر مامور افسران و جوانوں کو دیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں