اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریںکراچی،نیب سندھ میں متعدد مقدمات کا فیصلہ نہ ہونے سے کرپشن کے خلاف مہم ..

کراچی،نیب سندھ میں متعدد مقدمات کا فیصلہ نہ ہونے سے کرپشن کے خلاف مہم ناکام

1800 ملزمان میں سے بیشترکے خلاف نیب 2 سال میں ریفرنس بھی دائر نہ کرسکا

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 اکتوبر2018ء)نیب سندھ میں 588 کرپشن کیس اوراحتساب عدالتوں میں 763 ارب روپے کے مقدمات کا فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے کرپشن کے خلاف مہم ناکامی سے دوچارہوگئی،اربوں روپے لوٹنے میں ملوث 1800 ملزمان میں سے بیشترکے خلاف نیب 2 سال میں ریفرنس بھی دائرنہیں کرسکا،نیب آرڈیننس 1990ئ کے تحت کرپشن کیس کا 30 روزمیں فیصلہ کرنے کی شرط پرعمل نہ ہونے سے کرپشن کے سیکڑوں مقدمات التوا کا شکارہوئے۔

نیب سندھ کی سست روی کے باعث سرکاری اداروں میں کرپشن میں ملوث ایک سابق چیف سیکریٹری، 120اعلیٰ افسران،10ہائی پروفائل سیاستدانوں،5سابق وزرا کے خلاف نیب کی 588 کرپشن انکوائریاں التوا کا شکارہوگئی ہیں جبکہ احتساب عدالتوں میں 763 ارب روپے کے مقدمات کا فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے کرپشن کے خلاف مہم ناکامی سے دوچارہوگئی ہے۔

(خبر جاری ہے)

نیب کے معتمد ترین ذرائع نے روزنامہ نائنٹی ٹونیوزکوبتایا ہے کہ کراچی اورحیدرا?باد کی 6? احتساب عدالتوں میں 269? جبکہ سکھر کی احتساب عدالت میں 33? کیسز کا فیصلہ نہیں ہو سکا ہے کرپشن کے اعتبار سے سب سے زیادہ کرپشن کیسز حیدرا?باد اور کراچی کی احتساب عدالتوں میں التوا کا شکار ہیں جن میں ملزمان کی تعداد 1800? ہے جن پر 763? ا رب روپے لوٹنے کا الزام ہے جن میں سے 80سے زائد افسران و سیاستدانوں نے عدالت سے ضمانت حاصل کررکھی ہے۔

نیب سندھ میں جن شخصیات کے خلاف کرپشن کیسز التوا کا شکار ہیں ان میں نیشنل بینک کے سابق صدر علی رضا ،ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی منظور قادراور ڈی جی لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی آغا مقصود،سابق سیکریٹری بورڈ آف ریونیوخان محمد مہر،پروجیکٹ ڈائریکٹرلائنزایریا ری ڈولیپمنٹ پروجیکٹ فرید احمد یوسفانی، سابق چیئرمین این آئی سی ایل ایازخان،سیکریٹری بلدیات علی احمد لوند،سابق وائس چانسلر سندھ یونیورسٹی ڈاکٹر نذیر مغل،ساحل سمندرپر 530ایکڑاراضی الاٹ کرنے پرمحکمہ ریونیوکے افسران اور نیاناظم آباد پروجیکٹ کیلئے زمین کی الاٹمنٹ کرنے والے افسران کے علاوہ صوبائی وزیرمکیش کمارچاؤلہ کے خلاف کیمروں کی خریداری میں کرپشن کا کیس،سابق صوبائی وزیرضیاء لنجار ، میر منور تالپور اور اویس مظفر کے خلاف آمدن سے زائد جائیداد اور ناجائز اثاثہ جات کے کیسزسابق وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال سابق صوبائی وزیر کوآپریٹیو اکرام دھاریجو اور سابق وزیر ایکسائز گیان چند ایسرانی ایم کیو ایم کے سابق وزیر اور موجودہ رکن اسمبلی رؤف صدیقی،سابق رکن عادل صدیقی، سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال، سابق رکن سندھ اسمبلی محمد علی ملکانی ،عبدالستار راجپر،چیئرمین لینڈ ریگولرائزیشن کمیٹی کے زاہد علوی، ممبر لینڈ یوٹیلائزیشن آغا سیف الدین خان، سیکریٹری شاہ زرشمعون دیگرافسران میں گریڈ 21 کے افسر سید غلام نبی، سیکریٹری زراعت سید گلزار شیخ، سیکریٹری اسپیشل ایجوکیشن نورمحمد لغاری، بورڈ آف ریونیو کے ممبر غلام علی شاہ سمیت پولیس، زراعت، محکمہ آبپاشی، جنگلات اور بلدیات افسران کے خلاف نیب کی تحقیقات مکمل نہیں ہوسکی ہیں جبکہ سندھ میں 38 وفاقی افسران کے خلاف بدعنوانی مقدمات کی بھی تحقیقات نامکمل ہیں جبکہ بعض شخصیات کے خلاف نیب انکوائریاں بند کردی گئی ہیں۔

نیب سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں 553 کرپشن شکایتوں، تفتیش اور مقدمات پر کام جاری ہے۔ 160 انکوائریاں اور 123 انوسٹی گیشنز سمیت بدعنوانی کے 270 ریفرنسز زیر سماعت ہیں واضح رہے کہ نیب آرڈیننس 1990ئ میں وضع کردہ جرائم کا ارتکاب کرنے والے ملزمان پر احتساب عدالتوں میں روزانہ کی بنیاد پر مقدمہ چلانے اور 30? دن میں کیس کا فیصلہ کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے جس پرعملدرآمد نہیں کیا جارہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں