اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریںسندھ میں کام کرنے والی گیس و پیٹرول کمپنیوں کے خلاف توہین عدالت کیس عدالت ..

سندھ میں کام کرنے والی گیس و پیٹرول کمپنیوں کے خلاف توہین عدالت کیس

عدالت نے مولوی اور موذن سمیت تمام ملازمین کی تفصیلات ڈومیسائل کے ساتھ پیش کرناکاحکم دیتے ہوئے سماعت30اکتوبرتک ملتوی

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اکتوبر2018ء)سندھ ہائیکورٹ میں صوبے میں کام کرنے والی گیس و پیٹرول کمپنیوں کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت میں عدالت نے افسران کی سخت سرزنش کی،عدالت نے مولوی اور موذن سمیت تمام ملازمین کی تفصیلات ڈومیسائل کے ساتھ پیش کرناکاحکم دیتے ہوئے سماعت30اکتوبرتک ملتوی کردی۔منگل کوسندھ ہائی کورٹ میں صوبہ میں کام کرنے والی گیس و پیٹرول کمپنیوں کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔

درخواست گزار نے کہاکہ سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر کمپنیاں عملدر آمد نہیں کر رہیں، مقامی سطح پر ترقیاتی اور فلاح و بہبود کے کام میں تعاون نہیں کیا جا رہا۔عدالت نے 30 اکتوبر تک قمبر شہداد کوٹ اور بدین میں کمپنیز سے رپورٹ طلب کرلی۔عدالت نے ہدایت کی کہ رپورٹ میں ملازمین کی تفصیل ڈومیسائل کے ساتھ پیش کی جائے۔

(خبر جاری ہے)

عدالت نے مولوی اور مذن کی تفصیل بھی ڈومیسائل کے ساتھ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

عدالت میں قمبر شہداد کوٹ میں گیس فیلڈ مزرانی میں مقامی ملازمین کی بھرتی کی رپورٹ پیش کی گئی۔ڈپٹی کمشنر قمبر شہداد کوٹ جاوید جاگیرانی نے بتایا کہ 6 میں سے ایک انجینئر مقامی ہے باقی سب باہر سے آئے ہیں۔عدالت نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتہ ہے آپ کے ضلع میں مقامی لوگوں سے ناانصافی ہو رہی ہی ایسی صورتحال پیدا نہ کریں کہ آپ کی آنے والی نسلیں بھیک مانگیں۔

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ اپنی ڈیوٹی کے فرائض انجام نہیں دے رہے، کیوں نہ آپ کے چیف سیکرٹری کو لکھا جائے کہ آئندہ آپ کو فیلڈ پوسٹنگ نہ دی جائے۔سندھ ہائیکورٹ نے آئندہ سماعت پر چیف سیکرٹری سندھ کو بھی طلب کرلیا۔سماعت میں ضلع گھوٹکی کے سابق ڈپٹی کمشنر کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ قادر پور گیس فیلڈ نے ترقیاتی کاموں کی مد میں فنڈ نہیں دیاگیا۔

گیس فیلڈ کے نمائندے نے بتایا کہ ہم نے فنڈز دیئے ہیں۔عدالت نے کہا کہ گھوٹکی کے ڈپٹی کمشنر نے جب رپورٹ میں سچ لکھا تو اس کا تبادلہ کر دیا گیا۔ عدالت نے نئے تعینات ڈپٹی کمشنر گھوٹکی کو بیان حلفی جمع کروانے کا حکم دیا۔عدالت نے کہا کہ بیان حلفی میں بتائیں 2013 سے کمپنیوں نے ترقی کے لیے کتنی رقم خرچ کی، کمپنی والوں کو مولوی اور مذن بھی باہر سے چاہئیں۔سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے مزرانی گیس فیلڈ افسران کی بھی سرزنش کی گئی۔ ہائیکورٹ میں کیس کی مزید سماعت 30 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں