اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریںخواتین کو آنکھ مارنا بھی اب جرم تصور ہو گا سندھ کے نجی و سرکاری اداروں ..

خواتین کو آنکھ مارنا بھی اب جرم تصور ہو گا

سندھ کے نجی و سرکاری اداروں میں خواتین کو چھیڑنے، ہراساں کرنے یا پھر جنسی تشدد کرنے والے مرد کو نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے

کراچی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔16اکتوبر 2018ء) خواتین کو آنکھ مارنا بھی اب جرم تصور ہو گا۔ سندھ کے نجی و سرکاری اداروں میں خواتین کو چھیڑنے، ہراساں کرنے یا پھر جنسی تشدد کرنے والے مرد کو نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت سندھ نے ملازمت پیشہ خواتین کے تحفظ کے لیے قانونی مسودہ تیار کر لیا ہے۔قانونی مسودہ یعنی سندھ پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ ایٹ ورک پلیس ایکٹ تیار کر لیا گیا ہے۔

ایکٹ کے تحت سندھ میں خواتین کو چھیڑنا،ہراساں کرنا اور جنسی تشدد ناقابل معافی جرم ہو گا۔جب کہ خواتین کے ساتھ ساتھ خواجہ سراؤں کو چھیڑنے والے بھی قانون کی گرفت میں آئیں گے۔تمام نجی و سرکاری اداروں میں خواتین کے تحفظ کے لیے کمیٹی بنانا لازمی ہو گا۔

(خبر جاری ہے)

انکوائری اتھارٹی 3 ارکان پر مشتمل ہو گی۔خواتین ہراساں کیا جانے کی صورت میں تحریری شکایت کر سکیں گی۔

ایکٹ کے مطابق صوبائی محتسب سے بھی براہ راست شکایت کی جا سکے گی۔انکوائری اتھارٹی شکایت ملنے کے بعد تین دن میں فصلہ کرے گی۔قصور وار شخص پر ملازمت سے بر طرفی،تنخواہ و مراعات روکنے کی سزائیں بھی ایکٹ میں شامل ہیں۔جب کہ چھیڑ خانی کرنے والے مردوں کی ترقی و انکریمنٹ روکنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔صوبائی محتسب خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعے کا از خود نوٹس بھی لے سکے گا،ملازمت کی جگہ پر خواتین کے تحفظ کا ایکٹ آج کابینہ اجلاس میں پیش کیا جا ئے گا۔

کابینہ سے منظوری کے بعد ایکٹ سندھ اسمبلی میں لایا جائے گا۔خیال رہے ملک کے مخلتف اداروں میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔تاہم ایسے میں کئی خواتین کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ دفتری اوقات کے دوران انہیں ہراساں کیا جاتا ہے لیکن وہ نوکری کی وجہ سے خاموش رہتی ہیں تاہم سندھ حکومت نے اب اس حوالے سے ایک قانون تیار کر لیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں