شارع فیصل پر رکشا ڈرائیور کی ٹریفک پولیس کی جانب سے رشوت طلب کرنے پر دلبرداشتہ ہو کر خودسوزی

آئی جی سندھ اور کراچی پولیس کے سربراہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک سے انکوائری رپورٹ طلب کرلی

پیر اکتوبر 00:40

کراچی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2018ء) شارع فیصل پر کراچی پولیس آفس کے سامنے قائم ٹریفک چوکی پر رکشا ڈرائیور نے مبینہ طو رپر رشوت طلب کرنے پر خود کو آگ لگا لی جسے زخمی حالت میں ہسپتال داخل کرا دیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ کراچی پولیس آفس کے سامنے قائم ٹریفک چوکی پر اے ایس آئی حنیف نے ایک رکشا ڈرائیور خالد کا چالان کردیا جس پر وہ مشتعل ہوگیا اور اس نے خود کو آگ لگالی۔

(جاری ہے)

خالد کا کہنا ہے کہ اے ایس آئی حنیف نے چالان نہ کرنے کے عوض اس سے مبینہ طو رپر50روپے رشوت طلب کی، اس سے قبل بھی مذکورہ چوکی پر تعینات اہلکار اس سے رقم طلب کرتے رہے ہیں جس پر تنگ آکر اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا ۔ خالد کا رکشا بھی ضبط کرلیا گیا ہے، خالد کو فوری طور پر سول ہسپتال کے برنس وارڈ منتقل کیا گیا جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ایس ایچ او صدر پیر شبیر نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے، واقعے کا آئی جی سندھ کلیم امام اور کراچی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر امیر شیخ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک سے انکوائری رپورٹ طلب کرلی۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments