اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریںجو رکشہ ڈرائیور چالان نہ بھر سکا،میں ادا کروں گا کراچی پولیس چیف امیر ..

جو رکشہ ڈرائیور چالان نہ بھر سکا،میں ادا کروں گا

کراچی پولیس چیف امیر شیخ کا ٹریفک اہلکاروں کو غریبوں کے چالان نہ کرنے کا حکم

کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔22 اکتوبر 2018ء) : کراچی پولیس چیف امیر شیخ کا کہنا ہے کہ ٹریفک اہلکاروں وک کہتا ہوں کہ جو غریب چالان ادا نہ کر سکے اسے وارننگ دے کر چھوڑ دیں۔ٹریفک چالان شہریوں کے لیے وبال جان بن گیا ہے۔گذشتہ روز کراچی میں ایک رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر خود سوزی کی بھی کوشش کی تھی۔کہا جا رہا ہے کہ رکشہ ڈرائیور کا جسم کا 80فیصد حصہ جھلس چکا ہے۔

جس کے بعد شاہراہ فیصل تھانہ صدر کی حدود میں رکشہ ڈرائیور خود سوزی واقعے میں اے ایس آئی کو بھی معطل کیا جا چکا ہے۔
کراچی پولیس چیف نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کراچی پولیس چیف کا کہنا ہے کہ پابندی لگائی تھی کہ ایک پولیس آفیسر ایک ہی رکشہ ڈرائیور کا چالان کر سکتا ہے۔رکشے والے کا 100سے 150سے زائد چالان نہیں ہو گا۔

(خبر جاری ہے)

کراچی پولیس چیف نے کہا کہ اگر کوئی رکشہ ڈرائیورچالان نہ بھر سکا تو میں بھروں گا۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ چالان کے بعد قوانین کی خلاف ورزی کریں۔

انہوں نے ہدایت کی کہ ایک ہفتے بائیک والوں کے خلاف ون وے کے علاوہ کوئی چالان نہ کیا جائے۔کچھ ٹریفک پولیس اہلکار اہم سڑکیں چھوڑ کر سائیڈ بائیکرز کو پکڑ لیتے ہیں۔ٹریفک پولیس اہلکار نا انصافی کریں تو ہمیں بتائیں۔کسی نے بھی نا انصافی کی تو اس کے خلاف ایکشن لیں گے۔جب کہ دوسری طرف کراچیکے شہریوں کو لائنسس بنوانے اور ہیلمٹ خریدنے کے لیے ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔


کراچی پولیس چیف امیر شیخ کا کہنا ہے کہ اب چالان نہیں کیا جائے گا بلکہ سیدھا جیل بھیجا جائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ون وے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین دن کے اندر 100سے زائد افراد کو قابو آئے۔ اور جن لوگوں کی عمر لائنس بنوانے کی نہیں ہوئی لیکن اس کے باوجود بھی وہ گاڑیاںچلا رہے ہیں ان کی گاڑیضبط کر لی جائے گی۔ہماری تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ ہیلمٹ کے استعمال کو لازمی بنائیں۔اور ون وے اور لائنس سے متعلق قوانین پر عمل در آمد کے لیے ہمارے ساتھ تعاون کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں