اُردو پوائنٹ پاکستان کراچیکراچی کی خبریںفاروق ستار اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ملکر پارٹی کو مشکلات سے نکالنے ..

فاروق ستار اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ملکر پارٹی کو مشکلات سے نکالنے کی کوشش کریں،کامران ٹیسوری

, ورکرز ایکشن کمیٹی ختم کرکے پارٹی کی تقسیم کا تاثر ختم کرنے کی کوشش کرنے کا اعلان کرتے ہیں،رہنما ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2018ء)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سابق ڈپٹی کنوینرکامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ملکر پارٹی کو مشکلات سے نکالنے کی کوشش کریںہم بھی پارٹی کو تقسیم سے بچانے کے لئے ورکرز ایکشن کمیٹی ختم کرکے پارٹی کی تقسیم کا تاثر ختم کرنے کی کوشش کرنے کا اعلان کرتے ہیںاگر یہی حالات رہے تو ایم کیو ایم اپنا میئر کھودے گی اور اسے بلدیاتی الیکشن میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گااگر بہادرآباد کی قیادت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو ہم پارٹی کارکنوں کے ہمراہ بہادرآباد کے دفتر کے باہر دھرنا دینے پر مجبور ہوجائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کو اپنی رہائشگاہ پرپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(خبر جاری ہے)

کامران ٹیسوری نے کہا کہ میں گذشتہ روز ضمنی الیکشن میں متحدہ کے امیدواروں کو ووٹ دیا تھا۔ میں ایم کیو ایم میں اس وقت شامل ہوا تھا جب ایم کیو ایم اپنی تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہی تھی۔آج بھی صورتحال ایسی ہے کہ ایم کیو ایم اپنے گھر سے ہار رہی ہے اگر یہ حالات جاری رہے تو ایم کیو ایم بلدیاتی انتخابات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکے اور اپنا میئر شپ بھی کھودے گی۔

میں ڈاکٹر فاروق ستار بھائی سے کہوں گا کہ وہ ایم کیو ایم کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے ملاقات کرکے انھیں قائل کرنے کی کوشش کریں فاروق ستار سمیت ہم سب کو ایم کیو ایم کو چھوڑنے کے بجائے پارٹی کو تقسیم ہونے سے بچانا ہے ۔پارٹی کی تقسیم کے تاثر کو ختم کرنے کے لئے ہی ہم ورکرز ایکشن کمیٹی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ہمیں کارکنان کی حیثیت سے کارکنوں کے وقار کو بحال کرنا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو ختم کرنا اتنا آسان نہیں ہے یہ ایک تحریک اور انظریئے کا نام ہے ۔ کامران ٹیسوری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں ڈاکٹر فاروق ستار کو اپنے لئے سنیٹر شپ مانگنے اور ورکرز اجلاس بلانے سے منع کیا تھا۔ہمیں اس وقت ایک دوسرے سے مفاہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ہونا ہوگا۔وہ کسے اپنا کنوینئر اور رہنما مانتے ہیں اور کس رہنما کو پارٹی میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پارٹی کو بچانے کے لئے ہی ہم نے اپنے تمام مطالبات سے دستبردار ہونے اور ورکرز ایکشن کمیٹی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کارکنوںاور ووٹرز کا دل ہماری وجہ سے دکھا ہے ان سے معافی مانگتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں ڈاکٹر فاروق ستاراور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی عوامی مسائل پر آواز اٹھائیںاورمہنگائی کے خلاف دھرنا دیں۔ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ اگر دونوں رہنماں نے ہماری درخواست پر توجہ نہیں دی تو ہم کارکنان کے ساتھ بہادرآباد آفس پر دھرنا دیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

کراچی شہر کی مزید خبریں