کراچی میں جاری انسداد تجاوزات مہم کا معاملہ سندھ اسمبلی میں پہنچ گیا

شہر میںلوگوں کی دوکانوں کے سائن بورڈز کو تھوڑا جارہا ہے ، حالانکہ سائن بورڈز کی مد میں کے ایم سی ٹیکس لے رہی ہے ، خرم شیرزمان

پیر نومبر 22:24

کراچی میں جاری انسداد تجاوزات مہم کا معاملہ سندھ اسمبلی میں پہنچ گیا
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 نومبر2018ء) کراچی میں جاری انسداد تجاوزات مہم کا معاملہ پیر کوسندھ اسمبلی کے ایوان میں پہنچ گیا۔ایوان کی کارروائی کے دوران تحریک انصاف کے رکن خرم شیرزمان نے اپنے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ شہر میںلوگوں کی دوکانوں کے سائن بورڈز کو تھوڑا جارہا ہے ، حالانکہ سائن بورڈز کی مد میں کے ایم سی ٹیکس لے رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ صدر میں آج بھی فٹ پاتھوں پر پتھارے موجود ہیں ، ہم سپریم کورٹس کے حکم کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ چار دن پہلے کے ایم سی نے نوٹس دیئے لیکن اب چیف جسٹس کے حکم کی آڑ میں کچھ اور ہورہا ہے ،دنیا بھر میں سائن بورڈز لگائے جاتے ہیں،نجی اسٹور کے شیشے توڑے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مئیر کراچی نے گزشتہ روز معذرت کی ہے کیا اس سے لوگوں کا نقصان پورا ہوگا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے شکایت کی کہ میرے حلقے کے دوکانداروں کا نقصان پہنچایا جارہا ہے ایم کیو ایم کے رکن محمد حسین نے کہا کہ دکانوں پرسائن بورڈز شیڈز کا سائز سے متعلق قانون موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف مہم تین دن تک چلتی رہی ،خرم شیرزمان کو تجاوزات کے خلاف مہم پر شکوہ چوتھے روزیاد آیا۔انہوں نے کہا کہ خرم شیر زمان کو اس وقت شکایت ہوئی جب ان کے ریستوران کے شیڈز گرائے گئے۔

اگر تجاوزات کے خلاف مہم شکایت ہے تو عدالت سے رجوع کرتے۔انہوں نے کہا کہ خرم شیرزمان نے تجاوزات کیخلاف مہم کے جواب میں میئرکونشانہ بنادیا۔وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کورٹ کا فیصلہ ہے ،تمام سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کو سراہا ہے ۔سٹی حکومت نے لیز ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ماضی میں ہمارے غلط فیصلوں سے شہر کا حلیہ بگڑا۔

جن لوگوں کے کاروبار متاثر ہوا ان کی دادرسی کے لیے بھی کام کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن درست ہوا۔کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی تو اسے انصاف ملنا چاہیے ۔تجاوزات میں جو لوگ ملوث رہے ان کی نشاندھی اور ان کے خلاف کارروائی بھی ہونا چاہیے ۔ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر کارروائی کی گئی ہے ،سندھ حکومت اور سٹی حکومت نے صرف عمل درآمد کرایا ہے۔سائن بورڈ کی سائز کے مطابق فیس لی جاتی ہے ۔سندھ حکومت نے فیس لیں تو جمع کیوں نہیں کرایئں۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments